ایف ڈبلیو او کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارکس، سڑکوں اور فلائی اوورز میں بہتری کے کام جاری ہیں، کراچی کے 9 اہم منصوبوں، اہم سڑکوں کی تعمیر اور 7 سڑکوں کی بیوٹیفیکیشن کے منصوبے ہیں، ڈیزائن اور یوٹیلٹیز کی منتقلی فروری میں مکمل ہونی چاہئیں، مارچ 2026ء سے ترقیاتی کام شروع کر دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے منصوبوں کیلئے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کا پیکج دینا چاہتا ہوں، شہر کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں سے کم نہیں ہونی چاہیئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی سربراہی ایف ڈبلیو او کے ڈی جی میجر جنرل عبدالسمیع نے کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم کراچی کی ترقی کا جامع منصوبہ نافذ کرنا چاہتے ہیں، کراچی کےلیے 26 ارب 20 کروڑ روپے کی مزید رقم کی منظوری بھی دی ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چاہتا ہوں ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں، کراچی کے تمام میگا اور اہم منصوبوں کی بہترین ڈیزائننگ ہونی چاہیئے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اہم منصوبوں میں ایم 9 جناح ایونیو تا شارعِ فیصل سڑک کی تعمیر شامل ہے، یہ سڑک سپر ہائی وے اور شہر کی اہم شاہراہوں سے منسلک ہے، ملیر ہالٹ پرنٹنگ پریس سے شارعِ فیصل تک دائیں جانب انڈر پاس کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملیر ہالٹ پر ٹریفک کے لیے ایک بڑا حصہ خاصہ تنگ ہے، اسے ختم کرنا ہے، ایئر پورٹ سے اسٹار گیٹ کی جانب فلائی اوور کی تعمیر کی جائے گی، فلائی اوور سے ایئر پورٹ تا شارعِ فیصل براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وائی جنکشن سے مچھلی چوک، ہاکس بے روڈ کی تعمیر کی جائے گی، مسرور بیس تا ٹرک اسٹینڈ سڑک کی تعمیر بھی ساتھ ہو گی، کراچی میں کمرشل اور ہیوی ٹریفک کے لیے منصوبے شامل ہیں، کراچی میں سہراب گوٹھ پر فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سہراب گوٹھ شہر کا گیٹ وے ہے، وہاں ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہے، سہراب گوٹھ پر فلائی اوور بننے سے ٹریفک کا دباؤ ختم ہو جائے گا، ایسے مزید 7 منصوبے ہیں جن کے لیے میں 84.

7 ارب روپے فراہم کر رہا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں 443 اندرونی سڑکوں کی تعمیر ہوگی، ٹریفک مینجمنٹ کے لیے 9 منصوبے بنائے گئے ہیں، کے ایم سی کی 26 سڑکوں کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے، پارکس، سڑکوں اور فلائی اوورز میں بہتری کے کام جاری ہیں، کراچی کے 9 اہم منصوبوں، اہم سڑکوں کی تعمیر اور 7 سڑکوں کی بیوٹیفیکیشن کے منصوبے ہیں۔ مراد علی شاہ نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈیزائن اور یوٹیلٹیز کی منتقلی فروری میں مکمل ہونی چاہئیں، مارچ 2026ء سے ترقیاتی کام شروع کر دیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سڑکوں کی تعمیر مراد علی شاہ ایف ڈبلیو او اہم منصوبوں فلائی اوور نے کہا کہ کراچی کے کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا