کراچی کے منصوبوں کیلئے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کا پیکج دینا چاہتا ہوں، مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ایف ڈبلیو او کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارکس، سڑکوں اور فلائی اوورز میں بہتری کے کام جاری ہیں، کراچی کے 9 اہم منصوبوں، اہم سڑکوں کی تعمیر اور 7 سڑکوں کی بیوٹیفیکیشن کے منصوبے ہیں، ڈیزائن اور یوٹیلٹیز کی منتقلی فروری میں مکمل ہونی چاہئیں، مارچ 2026ء سے ترقیاتی کام شروع کر دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے منصوبوں کیلئے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کا پیکج دینا چاہتا ہوں، شہر کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں سے کم نہیں ہونی چاہیئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی سربراہی ایف ڈبلیو او کے ڈی جی میجر جنرل عبدالسمیع نے کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم کراچی کی ترقی کا جامع منصوبہ نافذ کرنا چاہتے ہیں، کراچی کےلیے 26 ارب 20 کروڑ روپے کی مزید رقم کی منظوری بھی دی ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چاہتا ہوں ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں، کراچی کے تمام میگا اور اہم منصوبوں کی بہترین ڈیزائننگ ہونی چاہیئے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اہم منصوبوں میں ایم 9 جناح ایونیو تا شارعِ فیصل سڑک کی تعمیر شامل ہے، یہ سڑک سپر ہائی وے اور شہر کی اہم شاہراہوں سے منسلک ہے، ملیر ہالٹ پرنٹنگ پریس سے شارعِ فیصل تک دائیں جانب انڈر پاس کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملیر ہالٹ پر ٹریفک کے لیے ایک بڑا حصہ خاصہ تنگ ہے، اسے ختم کرنا ہے، ایئر پورٹ سے اسٹار گیٹ کی جانب فلائی اوور کی تعمیر کی جائے گی، فلائی اوور سے ایئر پورٹ تا شارعِ فیصل براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وائی جنکشن سے مچھلی چوک، ہاکس بے روڈ کی تعمیر کی جائے گی، مسرور بیس تا ٹرک اسٹینڈ سڑک کی تعمیر بھی ساتھ ہو گی، کراچی میں کمرشل اور ہیوی ٹریفک کے لیے منصوبے شامل ہیں، کراچی میں سہراب گوٹھ پر فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سہراب گوٹھ شہر کا گیٹ وے ہے، وہاں ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہے، سہراب گوٹھ پر فلائی اوور بننے سے ٹریفک کا دباؤ ختم ہو جائے گا، ایسے مزید 7 منصوبے ہیں جن کے لیے میں 84.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سڑکوں کی تعمیر مراد علی شاہ ایف ڈبلیو او اہم منصوبوں فلائی اوور نے کہا کہ کراچی کے کے لیے
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔