کراچی: بھتہ خوری کا منظم نیٹ ورک جیل میں بنا تھا، تفتیش میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی میں بھتہ خوری کا ایک منظم گروہ جیل میں بننے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایس آئی یو نے کراچی میں بھتہ خوری کے منظم نیٹ ورک کے متعدد افراد کی گرفتاریاں اور تفتیش مکمل کرلی ہے۔ تفتیش میں جواد عرف واجہ، شاہ زیب اور ریحان شامل تھے۔
تفتیش کے دوران بدنام زمانہ بھتہ خور جواد عرف واجہ نے بتایا کہ نیٹ ورک کی تشکیل 2022 میں ہوئی اور اس کا آغاز جیل میں دیگر ملزمان سے ملاقات کے بعد ہوا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2022 میں جیل سے رہائی کے بعد نیٹ ورک کے دیگر کارندوں سے ملاقاتیں کی گئیں اور ماضی میں موبائل فونز کی خرید و فروخت کے کاروبار میں بھی ملوث رہے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں بھتہ خوری اور امن و امان کے بحران پر ڈاکٹر فاروق ستار کا احتجاج، تاجروں اور بلڈرز کی حمایت
گرفتار شاہ زیب نے تفتیش میں کہا کہ وہ ماضی میں کار شورومز میں کام کرتا رہا اور وہاں بھتہ کی مد میں رقم وصول کی گئی۔ شاہ زیب نے بتایا کہ جواد کے کہنے پر وہ ریحان کو لڑکے اور اسلحہ فراہم کرتا تھا اور ان لڑکوں کو دھمکانے اور فائرنگ کے لیے ایک لاکھ سے 50 ہزار روپے دیے جاتے تھے۔
ایس آئی یو کے حکام کے مطابق جواد عرف واجہ اور شاہ زیب کو قادری ہاؤس سے گرفتار کیا گیا اور تفتیش کے دوران ان کی شناخت اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات سامنے آئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھتہ خوری پولیس کراچی جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھتہ خوری پولیس کراچی جیل بھتہ خوری نیٹ ورک شاہ زیب
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔