پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے ظفر مسعود کو چیئرمین منتخب کر لیا، ایگزیکٹو کمیٹی کی بھی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) نے 16 رکنی نئی ایگزیکٹو کمیٹی کا انتخاب اور اعلان کر دیا ہے، جس میں دو خواتین اراکین اور آٹھ نئے شامل ہونے والے رکن بینکس شامل ہیں۔ یہ اقدام سب کی شمولیت اور بینکاری شعبے کی وسیع نمائندگی کی جانب ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن میں انتخابات کے بعد، ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر بینک آف پنجاب کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، ظفر مسعود کو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کا چیئرمین منتخب کیا۔
پی بی اے کی نئی قیادت میں حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ناصر سلیم کو سینئر وائس چیئرمین، جبکہ فیصل بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر یوسف حسین کو وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
نومنتخب چیئرمین ظفر مسعود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئی تشکیل شدہ ایگزیکٹو کمیٹی ایسوسی ایشن کے طرزِ رہنمائی میں ایک اہم ارتقائی مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔ توسیع شدہ اور متنوع رکنیت PBA کی اس صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے کہ وہ قومی معاشی ایجنڈے کو آگے بڑھائے، جس میں ترجیحی شعبوں میں کریڈٹ گیپس کو کم کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مالی شمولیت کو فروغ دینا، اور پاکستان کی پائیدار معاشی بحالی کی حمایت شامل ہے۔
حبیب بینک لمیٹڈ کے صدرناصر سلیم نے عالمی معاشی دباؤ کے تناظر میں استحکام اور مضبوط کمپلائنس فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ جناب یوسف حسین نے بینکاری شعبے کو جدت پسند اور علاقائی سطح پر مسابقتی رکھنے کے لیے جدیدیت، ٹیکنالوجی کے استعمال اور ادارہ جاتی تیز رفتاری کو کلیدی ترجیحات قرار دیا۔
اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سیکریٹری جنرل منیر کمال نے کہا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کی توسیع، خصوصاً خواتین کی تاریخی شمولیت، ایسوسی ایشن کے تنوع اور جدید طرزِ قیادت کے عزم کی عکاس ہے۔
نئی قیادت کے تحت، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارتِ خزانہ اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ انفرااسٹرکچر کی ترقی، زراعت اور ایس ایم ایز کے لیے نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ، اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان بینکس ایسوسی ایشن چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگزیکٹو کمیٹی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :