ایئرپورٹس پر نئی جدید اسکیننگ مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: ملک بھر کے ایئرپورٹس پر مسافروں کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی اور جدید اسکیننگ مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس نے تمام بڑے اور چھوٹے ایئرپورٹس کا تفصیلی سروے مکمل کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید اسکیننگ مشینوں کی تنصیب سے مسافروں کے سامان کی بروقت اور بہتر اسکیننگ ممکن ہو سکے گی، جبکہ اس اقدام سے اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس پر مجموعی سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی یہ مشینیں اہم کردار ادا کریں گی۔
گھڑ سواری میں پاکستان کا تاریخی اعزاز، عثمان خان عالمی رینکنگ میں سرفہرست
حکام کے مطابق جدید اسکیننگ مشینوں کی تنصیب کا یہ منصوبہ اربوں روپے مالیت کا ہے، جس پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جدید اسکیننگ
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔