صوابی میں نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہوکر باپ بیٹے کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہوکرباپ بیٹے کو قتل جبکہ خاتون اور تین بچوں کو زخمی کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صوابی کے گاؤں کھنڈہ میں پستول سے مسلح نامعلوم شخص نے رات کے وقت گھر میں داخل ہو کر کمراٹ دیر کے رہائش پذیر خاندان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے باپ شادی شدہ بیٹے سمیت جاں بحق جبکہ مقتول بیٹے کی بیوی تین بچوں سمیت شدید زخمی ہو گئی۔
بیوہ عبدالرحمن سکنہ تحصیل دیر حال کھنڈہ نے تھانہ لاہور میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ رات اپنے 34 سالہ شوہر عبدالرحمن، ان کے والد 61 سالہ جمعہ فقیر اور اپنے بچوں 11 ماہ کے شیر خوار سدیس، 9 سالہ بیٹے ذیشان اور 4 سالہ بچی سمیرا کے ہمراہ گھر واقع اراہٹ زرخان کھنڈہ منانے ونڈ میں موجود تھی۔
مزید پڑھیںقتل کے مقدمات میں مطلوب 2 اشتہاری ملزمان سعودی عرب سے گرفتار
درخواست گزار کے مطابق اس دوران پستول سے مسلح نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہو کر کمرے کا دروازہ کھول کر ہم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں اس کا شوہر عبدالرحمن اور ان کا والد جمعہ فقیر موقع پر جاں بحق جبکہ وہ اپنے تینوں بچوں سمیت شدید زخمی ہوئی۔
خاتون نے بتایا کہ ہماری کسی کے ساتھ دشمنی یا کوئی تنازع نہیں ہے، پولیس نے اس اندھے قتل کی ایف آئی آر درج کر کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نامعلوم شخص نے گھر میں داخل
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔