امریکا میں دو پاکستانی میئر اور ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-5
کیمبرج(مانیٹر نگ ڈ یسک )امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں کراچی سے تعلق رکھنے والی سنبل صدیقی میئر جب کہ بورے والا کے برہان اعظم ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سیاست اور حکمرانی میں پاکستانی نژاد مسلمانوں نے یکے بعد دیگرے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیے۔کیمبرج شہر کی تاریخ میں پہلی بار میئر اور ڈپٹی میئر پاکستانی
نڑاد امریکی منتخب ہوگئے جو نہ صرف امریکا میں پاکستانی برادری بلکہ دیگر اقلیتوں کے لیے بھی اہم سنگِ میل ہے۔ 5 جنوری کو ہونے والے سٹی کونسل انتخاب میں میئر کے عہدے کے لیے کراچی سے تعلق رکھنے والی سنبل صدیقی کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے بھی ایک پاکستانی برہان عظیم نے میدان مارلیا ہے جن کا تعلق پنجاب کے شہر بورے والا سے ہے۔ برہان عظیم کو شہر کا کم عمر ترین ڈپٹی میئر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جبکہ سنبل صدیقی نے بھی مسلسل تیسری بار میئر منتخب ہوکر ریکارڈ بنالیا۔سنبل صدیقی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور امریکی سیاست میں ایک متحرک اور بااثر نام سمجھی جاتی ہیں۔وہ پہلی بار 2017 میں کیمبرج سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں، جس کے بعد 2020ء سے 2024 تک دو مرتبہ میئر کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ میساچوسٹس کی تاریخ میں سنبل صدیقی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ کیمبرج کی پہلی مسلمان میئر اور پہلی ایشیائی نژاد خاتون ہیں جو مسلسل تیسری بار اس منصب پر منتخب ہوئیں۔ نئے ڈپٹی میئر برہان عظیم معروف ماہر تعلیم پروفیسر منیر چودھری کے صاحبزادے ہیں اور ایم آئی ٹی (MIT) بوسٹن سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی کیمبرج کے کم عمر ترین کونسلر کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں جبکہ برہان عظیم دوسری بار کونسلر منتخب ہونے کے بعد اب شہر کے سب سے کم عمر ڈپٹی میئر بن گئے ہیں۔
پاکستانی منتخب
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برہان عظیم ڈپٹی میئر
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔