امریکی شہر کےمیئراورڈپٹی میئردونوں پاکستانی مسلمان منتخب
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن : امریکا کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی شہر کے میئر اور ڈپٹی میئر دونوں پاکستانی مسلمان منتخب ہوگئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں پہلی بار میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب میں دونوں عہدوں پر پاکستانی نژاد نوجوان منتخب ہوئے ہیں۔
5 جنوری کو ہونے والے انتخاب میں کراچی کی سنبل صدیقی سال 2026/27ءکے لیے تیسری مرتبہ کیمبرج سٹی کی میئر اور بورے والا کے برہان عظیم کیمبرج سٹی کے کم عمر ترین ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی سنبل صدیقی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں جو امریکا میں سیاسی میدان میں بھی نمایاں رہی ہیں، سنبل صدیقی پہلی بار سال 2017ءمیں کیمبرج کونسل کے لیے منتخب ہوئی تھیں، اس کے بعد وہ سال 2020ءسے 2024ءتک دو بار کیمبرج کی میئر رہ چکی ہیں ۔
ریاست میساچوسٹس کی تاریخ میں سنبل صدیقی کمیبرج کی پہلی مسلمان میئر اور ایشیائی خاتون ہیں جو مسلسل تیسری بار میئر منتخب ہوئی ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر بورے والا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر منیر چودھری کا بیٹا برہان عظیم ایم آئی ٹی یونیورسٹی بوسٹن سے انجینئر کی ڈگری حاصل کرچکا ہے۔
برہان عظیم اس سے پہلے کیمبرج سٹی کی تاریخ کے کم عمر ترین کونسلر کے طور پر بھی منتخب ہوچکا ہے اور اس مرتبہ دوسری بار کونسلر منتخب ہونے کے بعد کم عمر ترین ڈپٹی میئر بھی بن گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔