data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اٹک(جسارت نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت کبھی بھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، افغان سرزمین کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کابل نئی دہلی سے امیدیں وابستہ کرے، دونوں مسلمان پڑوسی ممالک بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔ امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی فوج کا غزہ جانا قوم کو کسی صورت بھی قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان میں جنگ کا فائدہ مسلمان دشمن قوتیں اٹھائیں گی، دونوں ممالک ہوش کے ناخن لیں اور بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں ، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو ثالثوں سے مدد لیں، دونوں ممالک میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو بات چیت سے راستہ نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے بھی پاک افغان مذاکرات میں تعاون کی پیشکش کی، وزیراعظم امریکی صدر کی خوشامد کرنا بند کریں اور عوام کی حقیقی ترجمانی کریں، خوشامد اور کاسہ لیسی کرنے والا وزیراعظم قوم کو قبول
نہیں۔ ٹرمپ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی مکمل سرپرستی کررہا ہے، اس نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرلیا، اب گرین لینڈ ، کیوبا اور ایران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ وزیراعظم بتائیں کہ کیا ان کے بقول اب بھی ٹرمپ امن کا پیامبر ہے ، شہباز شریف نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام تجویز کیا تھا، کیا وہ اب بھی ان کے لیے یہی انعام تجویز کرتے ہیں؟ ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اٹک میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اقبال احمد خان، امیر اٹک سردار امجد علی خان اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی نے بھی خطاب کیا۔ خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد جلسے میں شریک تھی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی قانون جعلی ، جمہوریت دشمن اور عوام سے نفرت کا اظہار ہے، 15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس قانون پر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں رائے لیں گے، نتائج کے بعد پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، آئی پی پیز مافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز ہو گا۔امیر جماعت اسلامی نے ملک کے عدالتی نظام ، تعلیمی مسائل اور مزدور اورکسان طبقے کی پریشانیوں کا تذکرہ کیا اور موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا قیام پاکستان کے بعد آج تک آزادی کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے، افسر شاہی انگریز کے دیے گئے نظام کی محافظ ہے، سول، ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگریزوں کا نظام ہی چلا رہی ہے، موجودہ فرسودہ نظام میں بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کا خادم نہیں آقا تصور کرتی ہے، جاگیردار اور سرمایہ دار نسل در نسل انگریزوں کی وفاداری نبھا رہے ہیں، سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے، اس نظام کو بدلنے کے لیے جدوجہد کو تیز تر کرنا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنا چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو عوام کو بااختیار بنانے کی کاوشیں کرنا چاہییں ، تاہم صورتحال یہ ہے کہ عدالتی نظام گلا سڑا ہے، انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کو دھکے کھانا پڑتے ہیں، عدالتوں میں 23 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، غریب مزدور اور کسان کے بچے کی بہتر تعلیم تک رسائی نہیں، سرکاری اسکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ملک میں کروڑوں مزدوروں کو مزدور تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ، ان کی رجسٹریشن کے مسائل ہیں، حکومتوں کے اعلانات کے باوجود کم سے کم تنخواہ پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نوجوانوں تک رسائی حاصل کریں، عوام میں بیداری کی جدوجہد تیز کریں، مسلط طبقہ سے جان چھڑائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا۔

جسارت نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی