صوابی میں نامعلوم شخص کے ہاتھوں باپ بیٹا قتل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-08-11
صوابی (مانیٹر نگ ڈ یسک )خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہوکرباپ بیٹے کو قتل جبکہ خاتون اور 3 بچوں کو زخمی کر دیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق صوابی کے گاؤں کھنڈہ میں پستول سے مسلح نامعلوم شخص نے رات کے وقت گھر میں داخل ہو کر کمراٹ دیر کے رہائش پذیر خاندان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے باپ شادی شدہ بیٹے سمیت جاں بحق جبکہ مقتول بیٹے کی بیوی تین بچوں سمیت شدید زخمی ہو گئی۔ بیوہ عبدالرحمن سکنہ تحصیل دیر حال کھنڈہ نے تھانہ لاہور میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ رات اپنے 34 سالہ شوہر عبدالرحمن، ان کے والد 61 سالہ جمعہ فقیر اور اپنے بچوں 11 ماہ کے شیر خوار سدیس، 9 سالہ بیٹے ذیشان اور 4 سالہ بچی سمیرا کے ہمراہ گھر واقع اراہٹ زرخان کھنڈہ منانے ونڈ میں موجود تھی۔درخواست گزار کے مطابق اس دوران پستول سے مسلح نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہو کر کمرے کا دروازہ کھول کر ہم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں اس کا شوہر عبدالرحمن اور ان کا والد جمعہ فقیر موقع پر جاں بحق جبکہ وہ اپنے تینوں بچوں سمیت شدید زخمی ہوئی۔ خاتون نے بتایا کہ ہماری کسی کے ساتھ دشمنی یا کوئی تنازع نہیں ہے، پولیس نے اس اندھے قتل کی ایف آئی آر درج کر کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نامعلوم شخص
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔