گرین لینڈ پر ٹرمپ کی نظریں جم گئیں، ملٹری آپشنز زیرغور
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکی صدر اور ان کی ٹیم نے گرین لینڈ حاصل کرنے کے آپشنز پر غور شروع کردیا
ڈنمارک سے یہ علاقہ خریدنے یا آزادانہ وابستگی کا معاہدہ کرنے کے امکانات شامل
وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر ٹرمپ کی نظریں جم گئیں، اور امریکی صدر اور ان کی ٹیم نے گرین لینڈ حاصل کرنے کے آپشنز پر غور شروع کردیا۔وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر ٹرمپ کی نظریں جم گئی ہیں، اور اس سلسلے میں ملٹری آپشن پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ امریکی صدر واضح کرچکے ہیں کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنا نیشنل سکیورٹی ترجیح ہے۔سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ اپنے موجودہ دور حکومت میں گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ اور ان کے مشیر مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں، امریکی آپشنز میں ڈنمارک سے یہ علاقہ خریدنے یا جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی کا معاہدہ کرنے کے امکانات بھی شامل ہیں۔انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، تاہم نیٹو لیڈرز کے اعتراضات کے باوجود صدر ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے بیچین ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: گرین لینڈ حاصل کرنے کے ا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔