شدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز پر ٹریفک معطل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور:
موٹر وے پولیس کے مطابق شدید دھند کے باعث ملک کی مختلف موٹرویز پر ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
موٹروے ایم ون پشاور سے صوابی اور پشاور سے برہان تک بند کر دی گئی ہے، جبکہ موٹروے ایم 14 ہکلہ سے ڈی آئی خان اور تراپ تا عیسیٰ خیل کے حصے میں بھی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔
اسی طرح موٹروے ایم ٹو دھند کے باعث للّہ سے کوٹ مومن تک بند کر دی گئی ہے، جبکہ مین ٹول پلازہ اسلام آباد سے کلر کہار تک بجانب لاہور ٹریفک معطل ہے۔
مزید پڑھیںپنجاب اور خیبر پختونخوا میں دھند کے ڈیرے، موٹر وے اور شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند
موٹر وے ایم 4 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، ایم ون اور ٹو تاحال بند
موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ موٹرویز بند کرنے کا مقصد ممکنہ حادثات سے بچاؤ اور موٹروے استعمال کرنے والوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے قبل موٹروے پولیس ہیلپ لائن یا ٹریفک صورتحال سے آگاہی حاصل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دی گئی ہے موٹر وے دھند کے وے ایم
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔