پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج گردشِ زمین کا عالمی دن منایا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان میں آج 8 جنوری کو گردشِ زمین (Earth’s Rotation Day) منایا جارہا ہے۔
یومِ گردشِ زمین سائنسی تاریخ کاوہ دن ہےجب زمین کی گردش کو صرف نظریے کے بجائے ایک عملی تجربے کے ذریعے ثابت کیا گیا۔ یہ موقع اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ایک سادہ مشاہدے نے انسانیت کو ہمارے سیارے اور کائنات میں اس کی جگہ کو بہتر طور پر سمجھنے میں کس طرح مدد دی۔
8 جنوری 1851 کو فرانسیسی طبیعیات دان لیون فوکو نے پیرس میں ایک بڑے جھولتے ہوئے پینڈولم کے ذریعے زمین کی گردش کا عملی مظاہرہ کیا۔ پاکستان کے لیے یومِ گردشِ زمین سائنس کی تعلیم، مشاہدے اور تنقیدی سوچ کی اہمیت کی یاد دہانی ہے۔
سیٹلائٹ پر مبنی موسمی نگرانی اور قدرتی آفات کے انتظام سے لے کر نیویگیشن اور خلائی تحقیق تک، زمین کی حرکت کو سمجھنا قومی ترقی اور تکنیکی پیش رفت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ترجمان اسپارکو کا کہنا تھا کہ یہ دن طلبہ کو طبیعیات، فلکیات اور خلائی علوم میں دلچسپی لینے کی ترغیب دینے کا بھی ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔