کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی مسلسل پامالی پر عالمی برادری کی توجہ دلانے کی ضرورت ہے،پاکستان دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان دفتر خارجہ نے ہفت وار پریس بریفنگ میں زور دیا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے حق سے محروم رکھنا بھارت کی چار دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ 5 جنوری کو منایا جانے والا “ایشین ڈے فار دی پیپل آف جموں و کشمیر” اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 5 جنوری 1949 کو جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے قرار داد منظور کی تھی۔
دفتر خارجہ کے مطابق، کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سرپرستی میں آزاد اور غیر جانبدارانہ ریفرنڈم کے ذریعے اپنی تقدیر خود طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ تاہم، بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے اس حق کو مسلسل چار دہائیوں سے محدود رکھا ہوا ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ علاقوں میں کشمیری عوام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بنیادی حقوق اور عزت سے محروم رکھا گیا ہے۔ بھارت مسلسل کشمیری قیادت کو خاموش کرنے اور میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشمیری سیاسی قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور جبر و غیر قانونی حراست، مسلح چھاپہ مہمات اور زبردستی کی تحقیقات معمول بن گئی ہیں۔
ہزاروں کشمیری رہنما اور سول سوسائٹی کے اراکین قید ہیں، جبکہ کئی افراد طویل عرصے سے قید میں ہیں۔ صحافی عرفان مہاراج بھی بھارتی قابض حکام کی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے جیل میں ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی غیر قانونی مقبوضہ حکمرانی اور آبادیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے ہی وطن میں کمزور اور محروم کمیونٹی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور خود ارادیت کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ نے آخر میں کہا کہ کشمیری عوام اپنی جائز جدوجہد کے ذریعے بھارتی قبضے کے خلاف اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان کے حقِ خود ارادیت کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کشمیری عوام کو دفتر خارجہ نے خود ارادیت کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :