ملک بھر کے ائرپورٹس پر نئی اور جدید ا سکیننگ مشینیں نصب کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-01-9
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت نے ملک بھر کے ایئرپورٹس پر نئی اور جدید اسکیننگ مشینز نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر پر نئی اور جدید اسکیننگ مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے سول ایوی ایشن
اتھارٹی، ایئرپورٹس اتھارٹی اور ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کی جانب سے تمام بڑے چھوٹے ایئرپورٹس کا تفصیلی سروے مکمل کر لیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ جدیدا سکیننگ مشینوں کی تنصیب کا یہ منصوبہ اربوں روپے مالیت کا ہے، نئی مشینوں کی تنصیب سے مسافروں کے سامان کی بروقت اسکیننگ میں مدد ملے گی، نئی جدیدا سکیننگ مشینیں لگائے جانے کے بعد ا سمگلنگ روکنے میں معاون ثابت ہوگا، نئی اسکیننگ مشینوں سے سکیورٹی اقدامات بھی بہتر کرنے میں معاونت ہوگی۔دوسری طرف نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدرات کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا، جمعہ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان سے معلوم ہوا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم، وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری نجکاری سمیت مختلف وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے اس موقع پر پاکستان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے فروغ سے متعلق حکومت کی پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ملک میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔