Daily Sub News:
2026-06-03@01:01:19 GMT

الیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

الیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات

الیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز


تحریر: شاویز ہاشمی


اسلام آباد، ملک کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ ہر سال لاکھوں نئے افراد کا مسکن بنتا جا رہا ہے، جس کے باعث یہ شہر تیزی سے ایک بڑے میٹروپولیٹن مرکز کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اگرچہ سہولیات کے اعتبار سے اسلام آباد ملک کے بیشتر شہروں سے بہتر ہے، تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کے ناکافی اور غیر مربوط نظام نے شہریوں کی بڑی تعداد کو ذاتی سواری استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹریفک، آلودگی اور شہری دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔


2015 میں پہلی بار جڑواں شہروں کے محدود علاقوں میں میٹرو بس سروس کا آغاز ہوا، مگر روزانہ ہزاروں مسافروں کی ضروریات کے مقابلے میں یہ سہولت ناکافی ثابت ہوئی۔ بعد ازاں 2025 میں اسلام آباد کے مختلف روٹس پر مناسب کرایوں اور بہتر حالت والی الیکٹرک بسوں کا اجرا ایک خوش آئند قدم تھا، جس سے نہ صرف شہر کے اندر سفر آسان ہوا بلکہ ٹیکسلا اور فتح جنگ جیسے قریبی شہروں تک عوامی آمد و رفت میں بھی سہولت پیدا ہوئی۔ اگرچہ بسوں کی تعداد کم اور انتظار کا وقت طویل ہونا اب بھی ایک مسئلہ ہے، تاہم ماضی کے مقابلے میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔


اس سروس کی افادیت کے باوجود چند بنیادی مسائل ایسے ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پاس اتنے مالی وسائل موجود ہیں کہ وہ یہ نسبتاً چھوٹے مگر اہم مسائل حل کر سکے۔
سب سے سنگین مسئلہ بعض اہم بس اسٹیشنز پر مسافروں کے لیے مناسب انتظار گاہوں کا نہ ہونا ہے۔ مثال کے طور پر پمز بس اسٹیشن، بری امام اور کھنہ پل جیسے مقامات، جہاں سے روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں، وہاں نہ دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لیے کوئی چھت موجود ہے اور نہ ہی ضعیف، بیمار یا خواتین مسافروں کے بیٹھنے کے لیے مناسب انتظام۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وہاں تعینات ورکرز بھی صاف پینے کے پانی اور واش روم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔


مزید برآں، بس روٹس اور اوقات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے سی ڈی اے کی جانب سے تیار کردہ موبائل ایپ بھی اکثر تکنیکی مسائل کا شکار رہتی ہے، جو کبھی کام کرتی ہے اور کبھی نہیں۔ اس ایپ کو مؤثر، مستحکم اور صارف دوست بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ شہری درست معلومات تک بروقت رسائی حاصل کر سکیں۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، بسیں نسبتاً چھوٹی جبکہ مسافروں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگر بعض مصروف روٹس پر بسوں کے درمیان وقفہ آدھے گھنٹے کے بجائے 15 منٹ کر دیا جائے تو نہ صرف عوام کو نمایاں سہولت ملے گی بلکہ سی ڈی اے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا، چرچ کے قریب فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اوورسیز پاکستانی: خاموش طاقت یا نظر انداز شدہ قومی اثاثہ؟ مسئلہ کشمیر: حق خودارادیت کی جدوجہد اور عالمی ذمہ تحریک تحفظ آئین پاکستان جب ایمان کو یرغمال بنا لیا جائے دنیا بھارت میں بڑھتی نفرت اور تشدد کو نظرانداز کیوں نہیں کر سکتی ریل گاڑی کی ہر کھڑکی سے ایک نئی دنیا کا نظارہ، ٹرین کا آرام دہ سفر 2025ء میں کتنا کٹھن رہا، آمدن کیا رہی؟ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا