شادی کی پیشکش ملنے پر لڑکیاں یوں خوش ہوتی ہیں جیسے وہ زمین پر بوجھ ہوں: بشریٰ انصاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہر فن مولا اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا ہے کہ میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ عام طور پر لڑکیاں اس خیال سے ہی خوش ہو جاتی ہیں کوئی ان سے محبت کرتا ہے۔ لڑکیاں، بشمول میں خود، محبت میں جلد مبتلا ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں دھوکے ملنے کے رجحان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
حال ہی میں بشریٰ انصاری نے اپنی روزمرہ یوٹیوب وی لاگ میں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو شادی کے رشتوں کے نام پر آسانی سے دھوکا دیے جانے کے رجحان پر کھل کر بات کی۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے کہا کہ میں نے یہ رجحان بھارتی اور انگریزی فلموں میں بھی دیکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی کسی رشتے، دوستی یا تعلق میں ہوں اور لڑکا شادی کی پیشکش کر دے تو لڑکی خوشی سے حیران و پریشان ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر لڑکا انگوٹھی دے دے تو لڑکی کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی۔
بشریٰ انصاری نے سوال اٹھایا کہ آخر اس ذہنیت کی وجہ کیا ہے؟ ان کے مطابق یہ بات خوش آئند ہے کہ کوئی آپ سے شادی کرنا چاہتا ہے، مگر صرف ایک رشتہ آ جانا شادی کے لیے کافی نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سوسائٹی میں لڑکیوں کے لیے شادی کی پیشکش مل جانا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور مقصد بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے ایسی لڑکیوں سے سوال کیا کہ کیا وہ کسی پر بوجھ ہیں یا کسی طرح کم تر ہیں کہ محض کوئی رشتہ آ جانا اتنی بڑی کامیابی سمجھا جائے؟
بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ یہ سوچ ہمارے معاشرتی رویّوں کا نتیجہ ہے، جہاں لڑکیاں یوں خوش ہوتی ہیں جیسے وہ زمین پر بوجھ ہوں اور اب کسی نے انہیں قبول کر لیا ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ لڑکیوں کو چاہیے کہ شادی کے جال میں پھنسنے کے بجائے مردوں کی اصل خوبیوں اور کردار کو پرکھیں، مگر افسوس کہ رشتہ آتے ہی کئی اہم باتیں نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں بغاوت کی ترغیب نہیں دے رہی، بلکہ صرف یہ چاہتی ہوں کہ لڑکیاں سوچیں اور آئندہ زیادہ محتاط رہیں، کیونکہ لڑکیوں میں عمومی طور پر شادی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ یہ کہنے لگتی ہیں کہ ’اس میں کئی خراب عادتیں ہیں، مگر اس نے مجھے رشتہ تو دیا ہے‘، جو ایک تشویشناک رویہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی