اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس میں 850 پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچین میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں جمعرات کے روز 100 انڈیکس کاروبار کے آغاز کے بعد ہی 850 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 11:20 بجے تک، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 187,374.83 پر تھا، جو 856.12 پوائنٹس یعنی 0.46 فیصد کے اضافے کے مترادف تھا۔
اہم شعبوں میں خریداری کی دلچسپی دیکھی گئی، جن میں سیمنٹ، کیمیکل، تجارتی بینک، تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، تیل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یو بی ایل سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، اسٹاک ایکسچینج 186000 پوائنٹس کی نئی بلندی پر
اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ اور نیشنل بینک آف پاکستان سب گرین زون میں ٹریڈ ہوئے۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +832.
— Investify Pakistan (@investifypk) January 8, 2026
بدھ کو اسٹاک ایکسچینج نے اپنی تیزی کی دوڑ جاری رکھی، کیونکہ مضبوط خریداری کی وجہ سے بنیادی انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچا، جس کی حمایت وسیع سطح پر شعبوں کی شرکت سے ہوئی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس نے 1,456.61 پوائنٹس یعنی 0.79 فیصد اضافہ کیا اور ریکارڈ 186,518.72 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، انڈیکس 1 لاکھ 75 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
عالمی سطح پر، تیل کی قیمتیں جمعرات کو اپنی حالیہ گراوٹ کے بعد مستحکم ہوئیں، جبکہ اسٹاکس کا آغاز غیر یقینی رہا کیونکہ سرمایہ کار گہری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکی لیبر مارکیٹ کے مخلوط ڈیٹا کے اثرات کا جائزہ لے رہے تھے۔
امریکی حکام نے بدھ کو کہا کہ ملک کو وینیزویلا کی تیل کی فروخت اور آمدنی پر مستقل کنٹرول کی ضرورت ہے تاکہ وہاں کی معیشت مستحکم ہو، تیل کے شعبے کو دوبارہ بنایا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وینیزویلا امریکی مفادات کے مطابق کام کرے۔
اسی دن، امریکا نے اٹلانٹک اوشن میں 2 وینیزویلا سے منسلک تیل ٹینکرز قبضے میں لے لیے، جن میں سے ایک روس کے جھنڈے تلے چل رہا تھا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے تاکہ امریکا خطے میں تیل کے بہاؤ پر کنٹرول کرے۔
نکولس مادورو کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد وینیزویلا کے حالات اب بھی خبروں کی زینت ہیں اور زیادہ تر مارکیٹ کے ردعمل کی توجہ کموڈیٹیز پر ہے۔
مزید پڑھیں:بِٹ کوائن کو 2022 کے بعد پہلی سالانہ خسارے کا سامنا، عالمی معیشت کو دباؤ کا سامنا
دوسری جانب، ایشیائی سیشن میں اسٹاکس مخلوط رجحان دکھا رہے تھے، حالانکہ نئے سال کے آغاز میں مارکیٹس نے نئی بلندیاں چھوئیں، مگر عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے اتار چڑھاؤ رہا۔
جاپان کے علاوہ ایم ایس سی آئی کا سب سے وسیع ایشیا پیسیفک انڈیکس نقصانات اور منافع کے درمیان متغیر رہا، جبکہ جاپان کا نیکی انڈیکس 0.74 فیصد نیچے آیا۔
نیسڈیک فیوچرز 0.02 فیصد کمی کے ساتھ، جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.05 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوئے جبکہ یورپی فیوچرز کمزور رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹک ریفائنری لمیٹڈ اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ حبیب بینک لمیٹڈ ریفائنریز سیمنٹ کیمیکل نیشنل بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ حبیب بینک لمیٹڈ ریفائنریز کیمیکل
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے