پی آئی اے کا لاہور سے لندن پروازیں بحال کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے نے لاہور سے لندن کے لیے فضائی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق پہلی پرواز پی کے 757، 30 مارچ کو لاہور سے لندن روانہ ہو گی، جو برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر لینڈ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
ترجمان نے بتایا کہ یہ پروازیں 6 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔
PIA now planning to start flights to London from Islamabad and Lahore with Boeing 777.
* From March 29, three weekly flights from Islamabad to London every Wednesday, Friday & Sunday.
* From March 30, one weekly flight from Lahore to London every Monday. pic.twitter.com/UNBGfqgVYL
— Pakistan Aviation News ???????? (@avpak3) January 7, 2026
لندن، پی آئی اے کے نیٹ ورک کے ابتدائی بین الاقوامی روٹس میں شامل رہا ہے اور اس روٹ کی بحالی کو قومی ایئرلائن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
لاہور سے لندن کی پروازوں کے آغاز کے بعد برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی ہفتہ وار پروازوں کی مجموعی تعداد 7 ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے میں بہت زیادہ پوٹینشل، 100 فیصد شیئرز خریدنا چاہتے تھے: عارف حبیب
واضح رہے کہ پابندی سے قبل پی آئی اے پاکستان سے لندن کے لیے ہفتہ وار 10 پروازیں آپریٹ کر رہی تھی۔
ترجمان کے مطابق لندن کے لیے پروازوں کی تعداد میں آئندہ دنوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی 2 ایئر ہوسٹس میں لڑائی، بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی، انتظامیہ کا سخت ایکشن
اس سے قبل پی آئی اے اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار 3 پروازوں کے آغاز کا اعلان کر چکی ہے، جو 29 مارچ سے شروع ہوں گی۔
پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن کی بحالی سے مسافروں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اور قومی ایئرلائن کے بین الاقوامی نیٹ ورک کو مزید وسعت ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی آئی اے لاہور لندن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے لاہور لاہور سے لندن لندن کے لیے پی آئی اے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔