حکومتِ پاکستان نے 5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے بنیادی قیمتوں کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
حکومتِ پاکستان نے ملک میں جدید موبائل اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کے فروغ کے لیے 5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پالیسی ہدایات اور مختلف فریکوئنسی بینڈز کی بنیادی قیمتوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام براڈبینڈ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ہائی اسپیڈ موبائل انٹرنیٹ کی بڑھتی طلب کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، جسے ملک کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:5G اسپیکٹرم نیلامی کی تیاری مکمل، جدید بینڈز پہلی بار دستیاب، وفاقی وزیر آئی ٹی کی پریس کانفرنس
حکومتی پالیسی ہدایت کے مطابق ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم کی نیلامی 700 میگا ہرٹز، 1800 میگا ہرٹز، 2100 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز، 2600 میگا ہرٹز اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں کی جائے گی۔ اس نیلامی کا انتظام پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کرے گی، جسے شفاف اور مسابقتی عمل کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
پالیسی کے مطابق 700 میگا ہرٹز بینڈ میں مجموعی طور پر 15 میگا ہرٹز پیئرڈ اسپیکٹرم جبکہ 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں مجموعی طور پر 50 میگا ہرٹز ان پیئرڈ اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا۔
حکومت نے 700 میگا ہرٹز بینڈ میں ایک میگا ہرٹز پیئرڈ اسپیکٹرم کی بنیادی قیمت 6.
اسی طرح 2300 میگا ہرٹز بینڈ میں ایک میگا ہرٹز ان پیئرڈ اسپیکٹرم کی بنیادی قیمت 1 ملین ڈالر، 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں 1.25 ملین ڈالر اور 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 0.65 ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:5G اسپیکٹرم نیلامی کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ
پالیسی ہدایت کے تحت موجودہ اور نئے سیلولر موبائل آپریٹرز نیلامی میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ پی ٹی اے ایک انفارمیشن میمورنڈم جاری کرے گی جس میں اہلیت کے معیار، نیلامی کے طریقہ کار اور تکنیکی تقاضوں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
نیلامی کو ٹیکنالوجی نیوٹرل رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ اسپیکٹرم صرف 5G ہی نہیں بلکہ مستقبل کی دیگر موبائل ٹیکنالوجیز، جیسے 4G یا 6G، کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا، بشرطیکہ وہ ملکی ضابطہ جاتی فریم ورک اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔
نیلامی میں کامیاب ہونے والے آپریٹرز کو ایک سال کی ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت دی جائے گی، جس کے دوران کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔ اس مدت کے بعد ادائیگی یکمشت یا اقساط میں کی جا سکے گی، جس پر شرحِ سود کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ کے مطابق لاگو ہوگی۔
پالیسی میں مقامی سطح پر اسمارٹ فون مینوفیکچرنگ کے فروغ اور انفراسٹرکچر کی بہتری جیسے اقدامات بھی شامل ہیں، تاکہ ملک میں 5G ٹیکنالوجی کو تیزی سے متعارف کرایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
5G 5G اسپیکٹرم اسمارٹ فون مینوفیکچرنگ نیلامی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 5G اسپیکٹرم اسمارٹ فون مینوفیکچرنگ نیلامی میگا ہرٹز بینڈ میں اسپیکٹرم نیلامی پیئرڈ اسپیکٹرم اسپیکٹرم کی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔