لاہور:نجی یونیورسٹی کی تیسری منزل سے کودنے والی طالبہ کو ہوش آ گیا۔
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور میں نجی یونیورسٹی کی تیسری منزل سے کودنے والی طالبہ کو ہوش آ گیا ،طالبہ کوطبیعت بہتر ہونے پر وینٹی لیٹر سے ہٹادیا گیا ہے،طالبہ نے اپنے اہل خانہ سے بات چیت کی۔پولیس کے مطابق طالبہ کی موبائل کالز کا ریکارڈ نکلوایا گیا،27 منٹ تک لڑکی سے بات کرنے والے نوجوان کو شامل تفتیش کر لیا گیا جس کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیاجائے گا۔پولیس تفتیش کے مطابق واقعہ ورثا ء کی جانب سے پسند کی شادی میں رکاوٹ پر پیش آیا،سربراہ میڈیکل بورڈ ڈاکٹر جودت سلیم کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کی سرجری سے متعلق آج جمعہ کے روز دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔سربراہ میڈیکل بورڈ کے مطابق مجموعی طورپر مریضہ کی حالت تسلی بخش اورمستحکم ہورہی ہے، ماہر نفسیات کی ٹیم بھی آج جمعہ کے روز مریضہ کا انٹرویو کرے گی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔