جدہ: انجینئر سجاد خان پاکستان انوسٹر فورم کے ڈپٹی سیکرٹری نامزد
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
جدہ: انجینئر سجاد خان پاکستان انوسٹر فورم کے ڈپٹی سیکرٹری نامزد WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز
جدہ: (خالد نواز چیمہ)
جدہ میں قائم پاکستان انوسٹر فورم نے ایک اہم تنظیمی پیش رفت کے تحت معروف کاروباری، سیاسی اور سماجی شخصیت انجینئر سجاد خان کو متفقہ طور پر فورم کا ڈپٹی سیکرٹری نامزد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو اوورسیز پاکستانی انوسٹر کمیونٹی میں بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور اسے ایک بہترین انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان انوسٹر فورم کے صدر چوہدری شفقت محمود دھول اور جنرل سیکرٹری عبدالخالق لک نے انجینئر سجاد خان کی صلاحیتوں، تجربے اور کردار پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط، محنتی، اصول پسند اور محبِ وطن شخصیت ہیں جو ہمیشہ اجتماعی مفاد اور دوسروں کی بھلائی کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کی صاف گوئی، دبنگ آواز اور اپنی زبان پر پہرہ دینے کی صفت انہیں ایک باوقار اور قابلِ اعتماد رہنما بناتی ہے۔
فورم قیادت کا کہنا تھا کہ انجینئر سجاد خان کی ڈپٹی سیکرٹری کے طور پر نامزدگی سے پاکستان انوسٹر فورم مزید مستحکم ہوگا اور اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل، باہمی رابطے کے فروغ اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوگی۔ فورم نے اس بہترین انتخاب پر انجینئر سجاد خان کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر انجینئر سجاد خان نے اپنی نامزدگی پر صدر چوہدری شفقت محمود دھول اور جنرل سیکرٹری عبدالخالق لک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اعتماد کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پوری ذمہ داری، دیانت داری اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور پاکستان انوسٹر فورم کے مقاصد کے حصول کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔
انجینئر سجاد خان کی نامزدگی پر فورم کے اراکین اور انوسٹر کمیونٹی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی شمولیت سے فورم نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپمز ہسپتال میں پھپھڑوں کی بجائے جگر کی بائیوپسی، خاتون مریضہ کی مبینہ ہلاکت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم پمز ہسپتال میں پھپھڑوں کی بجائے جگر کی بائیوپسی، خاتون مریضہ کی مبینہ ہلاکت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 ہائیکورٹ میں چیلنج امریکا میں پاکستانیوں نے تاریخ رقم کردی، کیمبرج شہر کے میئر اور ڈپٹی میئر منتخب ایران میں جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی، مظاہرین کی فائرنگ سے 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق پرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر ہر ظالم اور مافیا کیلئے پنجاب کی زمین تنگ کردی ،کسی فتنےکو پنپنےکی اجازت نہیں دینگے: مریم نوازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان انوسٹر فورم کے ڈپٹی سیکرٹری
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔