حلب میں جھڑپیں جاری، شامی حکومت کی شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
شامی حکام نے جمعرات کے روز شمالی شہر حلب کے ایک متنازع علاقے میں رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی، جبکہ حکومت اور کرد فورسز کے درمیان جھڑپیں دوسرے روز بھی جاری رہیں۔
حکام نے شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ بھی کھول دیا ہے۔
حلب صوبائی حکومت کے مطابق، فوج کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت شہریوں کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے تک علاقہ خالی کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے فوج کے حوالے سے بتایا کہ مقررہ وقت کے آدھے گھنٹے بعد کرد قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف شیخ مقصود، اشرفیہ اور بنی زید کے علاقوں میں ’مخصوص آپریشنز‘ کا آغاز کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی صبح شہریوں کے انخلا کے دوران وقفے وقفے سے گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔
حلب کے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل افیئرز اینڈ لیبر کے مطابق بدھ تک صوبے بھر میں 46 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ کرد اکثریتی علاقوں میں کم از کم 8 شہری ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری حکام کے مطابق لڑائی کے دوران حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں کم از کم 5 شہری اور ایک فوجی جان سے گئے۔
دونوں جانب درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، فریقین نے ایک دوسرے پر شہری آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ جھڑپیں مرکزی حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان سیاسی مذاکرات میں تعطل کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔
دمشق میں صدر احمد الشرع کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے مارچ میں ایس ڈی ایف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت شمال مشرقی علاقوں پر قابض ایس ڈی ایف کو 2025 کے اختتام تک شامی فوج میں ضم ہونا تھا۔
تاہم اس عمل کے طریقۂ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ اپریل میں معاہدے کے تحت شیخ مقصود اور اشرفیہ سے ایس ڈی ایف کے متعدد جنگجو نکل گئے تھے۔
اتوار کے روز مرکزی حکومت اور ایس ڈی ایف کے حکام کے درمیان دمشق میں ایک اور ملاقات ہوئی، تاہم سرکاری حکام کے مطابق کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔
واضح رہے کہ نئی شامی فوج، جو دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کے خلاف باغیانہ کارروائی کے بعد تشکیل دی گئی، اس میں شامل بعض دھڑے ماضی میں ترکی کی حمایت یافتہ تنظیمیں رہے ہیں، جن کی کرد فورسز کے ساتھ طویل عرصے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
ایس ڈی ایف کئی برسوں سے داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی اہم اتحادی رہی ہے، تاہم ترکی اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق کی بنا پر دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس وقت ترکی میں ایک امن عمل بھی جاری ہے۔
امریکی حمایت کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے عبوری شامی حکومت کے ساتھ بھی قریبی روابط استوار کر رکھے ہیں اور کرد قیادت پر مارچ میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو بیان میں کہا کہ امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
بیان کے مطابق امریکی ایلچی ٹام بیراک دونوں فریقین کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترکی کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی مکمل طور پر شامی فوج انجام دے رہی ہے، جبکہ ترکی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزارت کے مطابق ’’شام کی سلامتی، ترکی کی سلامتی ہے‘‘ اور اگر شامی حکومت نے مدد طلب کی تو ترکی ضروری تعاون فراہم کرے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس حلب میں جھڑپوں کے دوران شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات پر شدید فکرمند ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے کشیدگی میں فوری کمی، زیادہ سے زیادہ تحمل اور 10 مارچ کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امریکا ایس ڈی ایف ٹرمپ انتظامیہ حلب شام کرد محکمہ خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا ایس ڈی ایف ٹرمپ انتظامیہ ایس ڈی ایف کے کے درمیان کے مطابق کرنے کی کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ