شامی حکام نے جمعرات کے روز شمالی شہر حلب کے ایک متنازع علاقے میں رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی، جبکہ حکومت اور کرد فورسز کے درمیان جھڑپیں دوسرے روز بھی جاری رہیں۔

حکام نے شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ بھی کھول دیا ہے۔

حلب صوبائی حکومت کے مطابق، فوج کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت شہریوں کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے تک علاقہ خالی کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے فوج کے حوالے سے بتایا کہ مقررہ وقت کے آدھے گھنٹے بعد کرد قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف شیخ مقصود، اشرفیہ اور بنی زید کے علاقوں میں ’مخصوص آپریشنز‘ کا آغاز کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی صبح شہریوں کے انخلا کے دوران وقفے وقفے سے گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔

حلب کے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل افیئرز اینڈ لیبر کے مطابق بدھ تک صوبے بھر میں 46 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ کرد اکثریتی علاقوں میں کم از کم 8 شہری ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری حکام کے مطابق لڑائی کے دوران حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں کم از کم 5 شہری اور ایک فوجی جان سے گئے۔

دونوں جانب درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، فریقین نے ایک دوسرے پر شہری آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ جھڑپیں مرکزی حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان سیاسی مذاکرات میں تعطل کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔

دمشق میں صدر احمد الشرع کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے مارچ میں ایس ڈی ایف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت شمال مشرقی علاقوں پر قابض ایس ڈی ایف کو 2025 کے اختتام تک شامی فوج میں ضم ہونا تھا۔

تاہم اس عمل کے طریقۂ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ اپریل میں معاہدے کے تحت شیخ مقصود اور اشرفیہ سے ایس ڈی ایف کے متعدد جنگجو نکل گئے تھے۔

اتوار کے روز مرکزی حکومت اور ایس ڈی ایف کے حکام کے درمیان دمشق میں ایک اور ملاقات ہوئی، تاہم سرکاری حکام کے مطابق کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔

واضح رہے کہ نئی شامی فوج، جو دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کے خلاف باغیانہ کارروائی کے بعد تشکیل دی گئی، اس میں شامل بعض دھڑے ماضی میں ترکی کی حمایت یافتہ تنظیمیں رہے ہیں، جن کی کرد فورسز کے ساتھ طویل عرصے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

ایس ڈی ایف کئی برسوں سے داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی اہم اتحادی رہی ہے، تاہم ترکی اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق کی بنا پر دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس وقت ترکی میں ایک امن عمل بھی جاری ہے۔

امریکی حمایت کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے عبوری شامی حکومت کے ساتھ بھی قریبی روابط استوار کر رکھے ہیں اور کرد قیادت پر مارچ میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو بیان میں کہا کہ امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔

بیان کے مطابق امریکی ایلچی ٹام بیراک دونوں فریقین کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترکی کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی مکمل طور پر شامی فوج انجام دے رہی ہے، جبکہ ترکی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزارت کے مطابق ’’شام کی سلامتی، ترکی کی سلامتی ہے‘‘ اور اگر شامی حکومت نے مدد طلب کی تو ترکی ضروری تعاون فراہم کرے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس حلب میں جھڑپوں کے دوران شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات پر شدید فکرمند ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے کشیدگی میں فوری کمی، زیادہ سے زیادہ تحمل اور 10 مارچ کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امریکا ایس ڈی ایف ٹرمپ انتظامیہ حلب شام کرد محکمہ خارجہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا ایس ڈی ایف ٹرمپ انتظامیہ ایس ڈی ایف کے کے درمیان کے مطابق کرنے کی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں