Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:29:03 GMT

سعودی قرضے کیJF-17 طیاروں کی ڈیل میں تبدیلی پر مذاکرات

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

سعودی قرضے کیJF-17 طیاروں کی ڈیل میں تبدیلی پر مذاکرات

ریاض (نیوزڈیسک) ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ایک ایسے وقت میں دفاعی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہیں جب شدید مالی دباؤ ہے اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی وعدوں کے بارے میں بے یقینی کے پیش نظر اپنی سکیورٹی پارٹنرشپ کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط دوحہ میں حماس کے اہداف پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوئے تھے، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے جو کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جنگی طیارہ ہے جبکہ دوسرے ذرائع نے بتایا کہ زیر بحث دیگر اختیارات میں یہ طیارے بنیادی آپشن تھے۔ذرائع نے بتایا کہ کل سودا 4 ارب ڈالر کا تھا، جس میں قرض کی تبدیلی کے علاوہ سازوسامان پر اضافی 2 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ فوجی معاملات سے قریبی علم رکھنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ اس سودے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

سعودی میڈیا آؤٹ لیٹ ’سعودی نیوز 50‘ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں تھے، جس میں ’دونوں فریقوں کے درمیان فوجی تعاون‘ پر بات چیت شامل تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بتایا کہ بات چیت کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ