ادھار کے 60 ہزار روپے واپس مانگنے پر ماموں نے بھانجے کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
صادق آباد: ادھار کے پیسے 60 ہزار مانگنے پر ماموں نے بھانجے کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق صادق آباد کےمعروف چوک صادق کلب کے قریب پیش ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ماموں نے اپنے بھانجے کو قتل کردیا، بھانجے نے ماموں سے ادھار واپسی کا تقاضہ کیا تھا۔رقم واپسی کا تقاضا کرنے پر ماموں اور بھانجے کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جسکے بعد ملزم نے ساتھیوں سمیت بھانجے کی کار پر فائرنگ کردی۔فائرنگ سے نوجوان بھانجا موقع پر جاں بحق ہوگیا، پولیس نے نوجوان کا پوسٹ مارٹم مکمل کرکے تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کردی۔
دوسری جانب کراچی میں پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں۔ خاتون جاں بحق ہوگئی جبکہ شوہر کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔کراچی کے علاقے لاسی گوٹھ کے ایک گھر میں فائرنگ سے خاتون جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا شاخسانہ لگتا ہے۔فائرنگ کے شکار مرد اور خاتون نے کورٹ میرج کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی نصراللہ کی حالت تشویشناک ہے۔ سر پر گولیاں ماری گئیں، اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔