Daily Sub News:
2026-06-02@22:38:16 GMT

پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدرآباد 175کروڑ روپے میں فروخت

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدرآباد 175کروڑ روپے میں فروخت

پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدرآباد 175کروڑ روپے میں فروخت WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)کی 2 نئی ٹیموں کی نیلامی کا عمل جاری ہے، جہاں ایف کے ایس گروپ نے پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم 175 کروڑ روپے میں خرید کر حیدرآباد کا نام فائنل کرلیا ہے۔
جمعرات کو پاکستان سپر لیگ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کے لیے نیلامی کا عمل جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہورہا ہے، تقریب میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی اور وفاقی وزرا سمیت بڑی تعداد میں کھلاڑیوں اور حکام شریک ہیں۔پاکستان سپر لیگ کی نئی ٹیموں کے لیے نیلامی 110 کروڑ روپے سے شروع ہوئی۔ ابتدائی نیلامی کے بعد ایف کے ایس گروپ نے 175 کروڑ روپے کی بولی لگا کر پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم خرید لی۔ ایف کے ایس گروپ نے پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم کے لیے حیدرآباد کا انتخاب کرلیا۔تقریب کے آغاز میں نیلامی میں حصہ لینے والے 10 بڈرز اور 6 ممکنہ شہروں کا تعارف کرایا گیا، اس کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے گھنٹی بجا کر نیلامی کھلنے کا باضابطہ اعلان کیا جب کہ وسیم اکرم نے آکشنر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ملتان سلطانز کے سابقہ مالک علی ترین کی نیلامی سے دست برداری کے بعد اب 9 پارٹیوں کے درمیان مقابلہ ہے جب کہ دو کامیاب پارٹیاں راولپنڈی، حیدرآباد، فیصل آباد، گلگت، مظفرآباد اور سیالکوٹ میں سے ٹیموں کے نام منتخب کر سکیں گی۔پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک ہوگا، نئی ٹیموں کی شرکت سے پی ایس ایل ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہوجائے گی۔نیلامی کی تقریب میں پاکستان شاہین اور ہانک کانگ سکسز کی ٹیمیں بھی شامل ہوئیں جنہیں حالیہ ٹورنمنٹس میں کامیابیوں پر انعامات سے نوازا گیا ہے۔چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو 9 کروڑ روپے کی انعامی رقم دی۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 85 لاکھ روپے انعام سے نواز گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے بنگلہ دیشی ایئرچیف حسن محمود کی ملاقات نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے بنگلہ دیشی ایئرچیف حسن محمود کی ملاقات تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے قافلے پر نامعلوم افراد کا حملہ، 2رہنما زیر حراست پی آئی اے کا اسلام آباد کے بعد لاہور سے بھی لندن کیلئے پروازوں کا اعلان بجلی مزید مہنگی،نیپرا کا یکم جنوری سے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ بلوچستان میں انسداد دہشت گردی آپریشن میں بڑا نیٹ ورک بے نقاب،دہشتگرد گرفتار سی ڈی اے کا اسلام آباد میں غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں کی ریگولرائزیشن کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا