بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز
کوئٹہ(سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی مشکلات پیدا کیں، ہم دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
کوئٹہ میں سیاسی رہنماوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کو ہمسایہ ملک سے مکمل سپورٹ دی جارہی ہے، فیلڈ مارشل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج کی قیادت کررہے ہیں، خیبرپختونخوا کی طرح دہشت گردوں نے بلوچستان میں بھی مشکلات پیدا کیں ہم دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کو وسائل فراہم کیے جارہے ہیں، اس وقت کے وزیراعلی بلوچستان اسلم رئیسانی نے این ایف سی میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا تھا جس پر پنجاب نے اسے لیڈ کیا، پنجاب اپنے حصے کے 11 ارب روپے بلوچستان کو دیتا ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ کراچی سے چمن چار رویہ سڑک کا آغاز کررہے ہیں جس کا افتتاح آج ہوگا، بلوچستان میں دانش اسکول بنائے جارہے ہیں جن سے بچوں کو تعلیم ملے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ایس ایل کی ساتویں ٹیم 175کروڑ،8ویں 185کروڑ روپے میں فروخت پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم 175کروڑ،8ویں 185کروڑ روپے میں فروخت فیلڈ مارشل سے بنگلہ دیش کے ایئرچیف کی ملاقات، دفاعی تعلقات کے فروغ کا عزم امریکا سے تعلقات،سفیر پاکستان کی معاشی و سیکیورٹی تعاون کے فروغ پر اہم ملاقاتیں طلال چوہدری کیخلاف شواہد ہیں لیکن اثرورسوخ کے باعث انہیں صرف وارننگ جاری کی گئی،حکام الیکشن کمیشن طارق فضل چوہدری کی پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش سی ڈی اے کا انسدادِ تجاوزات آپریشن ، سید پور میں320کنال سرکاری اراضی واگزارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں