WE News:
2026-06-02@22:42:07 GMT

امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی بڑھادی، روس

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی بڑھادی، روس

روس نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم والے آئل ٹینکر میرینیرا پر قبضہ کر کے امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی کو ہوا دی ہے اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ بے قابو، وینزویلا کے بعد کس کا نمبر ہے؟

روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق، امریکی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت ٹینکر کو اپنی تحویل میں لیا جب جہاز کسی بھی ریاست کی علاقائی حدود سے باہر تھا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران تقریباً سہ پہر تین بجے مقامی وقت پر جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

روسی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سنہ 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت کھلے سمندر میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے قانونی طور پر رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت استعمال کرے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکر پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے، ان کے حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں فوری طور پر وطن واپس بھیجا جائے۔

روسی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق، میرینیرا، جس کا سابقہ نام بیلا-1 تھا، کو 24 دسمبر 2025 کو روسی پرچم کے تحت عارضی اجازت دی گئی تھی جو روسی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ماضی میں امریکا کی جانب سے وینزویلا پر عائد سمندری ناکہ بندی سے بچ نکلنے میں بھی کامیاب رہا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکی حملے میں 100 افراد ہلاک، وینزویلا کے وزیرِ داخلہ کا دعویٰ

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے انجام دی اور اس کا مقصد وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔

امریکی حکام نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ کارروائی کے وقت روسی بحری جہاز، جن میں ایک آبدوز بھی شامل تھی، عمومی علاقے میں موجود تھے تاہم کسی قسم کی براہِ راست جھڑپ پیش نہیں آئی۔

یہ کارروائی وینزویلا پر امریکی دباؤ میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں حالیہ دنوں میں صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے جن پر امریکا کی جانب سے منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد ہیں تاہم وینزویلا کی قیادت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: وینزویلا تیل کی کمائی سے صرف امریکی مصنوعات خریدے گا، ٹرمپ کا اعلان

روسی حکام نے وینزویلا کی عبوری قیادت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امریکی اقدامات کو کھلی نوآبادیاتی دھمکی اور غیر ملکی مسلح جارحیت قرار دیا ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے تاہم دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات اب بھی نازک ہیں اور اس نوعیت کے فوجی واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد

تجزیہ کاروں کے مطابق آئل ٹینکر پر قبضے کا یہ واقعہ عالمی پابندیوں کے نفاذ، جہاز رانی کی آزادی اور اسٹریٹجک بحری راستوں میں بڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے جڑے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا روس وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا وینزویلا وینزویلا کے

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان