’روسی صدر‘ کی کارٹون سیریز میں خصوصی انٹری، قوم کو نئے سال کا پیغام، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بچوں کے ایک مشہور روسی کارٹون میں خصوصی انٹری دی اور بولنے والی بلی اور کتے کے ہمراہ اپنی قوم کو نئے سال کا پیغام بھی دیا۔
اس شو کو اپنا نام دینے والے افسانوی گاؤں پروسٹوکواشینو کے رہائشی پیوٹن کو کتے اور بلی کے ہمراہ نئے سال کا پیغام دیتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔
ماسکو میں پروسٹوکواشینو تھیم پارک میں اپنے بچوں کے ساتھ آنے والے بالغ افراد نے کارٹون میں روسی صدر کی خصوصی انٹری پر مثبت ردِعمل کا اظہار کیا۔
مرینا نامی ایک خاتون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ کارٹون میں کچھ بھی ہو سکتا ہے تو پیوٹن کی خصوصی انٹری بھی ہوسکتی ہے۔
ایک اور شخص نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ بچے پیوٹن کو جانتے ہیں اس لیے انہیں کارٹون میں دیکھنا شاید ان کے لیے اہم اور دلچسپ ہے بلکہ یہ غیر ملکی ناظرین کے لیے بھی دلچسپ ہو سکتا ہے۔
سویوزملتفلم اسٹوڈیو کے بورڈ کی سربراہ یولیانا سلاشیوا نے شو میں روسی صدر کی خصوصی انٹری کروانے کا فیصلہ گزشتہ سال کیا تھا۔
اُنہوں نے اپنے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس اپنے کارٹون سابق کمیونسٹ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو فروخت کرتا ہے اور چین میں اپنی موجودگی کو بڑھانا چاہتا ہے۔
یولیانا سلاشیوا نے کہا کہ پروسٹوکواشینو میں پیوٹن کی خصوصی انٹری بطور ’سافٹ پاور‘ استعمال ہوگی جو ملک اور اس کی ثقافت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی خصوصی انٹری کارٹون میں
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔