وینزویلا تیل کی کمائی سے صرف امریکی مصنوعات خریدے گا، ٹرمپ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف امریکی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سامان میں زرعی اجناس، ادویات، طبی آلات، بجلی گھروں کی تنصیب اور توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے والا سازوسامان شامل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی جانب سے امریکا کو اپنا اہم ترین تجارتی شراکت دار منتخب کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ وینزویلا کو تیل فروخت کرنے کی اجازت اسی صورت دی جائے گی جب یہ امریکی قومی مفادات کے مطابق ہوگا۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ اگر وینزویلا امریکی مفادات کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو اسے تیل بیچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔