’انسانیت کا بلند ترین درجہ‘ : 17 سالہ نوجوان نے آنکھیں عطیہ کر کے 2 لوگوں کی زندگی روشن کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
انسانیت کی خدمت اور ایثار و قربانی کی ایک ایسی داستان کراچی میں رقم ہوئی ہے جس نے انسانیت کیلیے جینے کی نئی امید پیدا کردی ہے۔
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں ایک 17 سالہ نوجوان، شیر علی تہیم نے اپنی وفات کے بعد اپنی آنکھوں کے قرنیے (Corneas) عطیہ کر کے دو افراد کی زندگیوں کو اجالوں سے بھر دیا۔
تفصیلات کے مطابق 17 سالہ طالب علم شیر علی کو دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث ایس آئی یو ٹی لایا گیا تھا۔ دو روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے 'برین ڈیڈ' قرار دے دیا۔
یہ گھڑی اس کے والدین کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی، لیکن اس خاندان نے اپنے لختِ جگر کی جدائی کے صدمے کو دوسروں کی خوشی میں بدلنے کا حوصلہ دکھایا۔
مرحوم شیر علی کا ایس آئی یو ٹی سے گہرا تعلق تھا۔ محض 8 سال کی عمر میں اس کی ماں نے اسے اپنا گردہ دے کر نئی زندگی کی امیددی تھی جبکہ اس کے والد بھی ماضی میں اپنے بھتیجے کو گردہ عطیہ کر کے ایثار کی مثال قائم کر چکے تھے۔
شیر علی کا وہ گردہ دس سال تک بخوبی کام کرتا رہا، مگر حال ہی میں وہ دوبارہ گردے کے عارضے میں مبتلا ہو کر ڈائلیسس پر تھا اور اسے دوسرے ٹرانسپلانٹ کا انتظار تھا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ یہ حادثہ پیش آیا۔
اس کے خاندان نے اس صدمے کے بیچ 'عطیہ اعضاء' کی اس مشعل کو بجھنے نہ دیا جو ان کے گھر میں برسوں سے روشن تھی۔ ورثا کی رضامندی کے بعد، ایس آئی یو ٹی کے ماہرین نے 7 جنوری کو شیر علی کی آنکھوں کی پیوند کاری کر کے ایک 45 سالہ مرد اور 21 سالہ طالب علم کی بینائی بحال کر دی۔
ایس آئی یو ٹی کے سربراہ اور دنیائے طب کے مایہ ناز ڈاکٹر پروفیسر ادیب رضوی نے اس موقع پر سوگوار خاندان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’شدید غم کے عالم میں دوسروں کے لیے سوچنا انسانیت کا بلند ترین درجہ ہے‘‘۔
انہوں نے معاشرے کے دیگر افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ ’’وفات کے بعد اعضا کے عطیے‘‘ کی اس تحریک کا حصہ بنیں تاکہ دکھ اور تکلیف میں مبتلا مریضوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس آئی یو ٹی شیر علی کے بعد
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔