data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برطانوی دارالحکومت لندن میں میئر کے الیکشن ہونے تو 2028 میں ہیں لیکن سیاسی سرگرمیاں وقت سے پہلے ہی شروع ہو گئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میئر لندن کے الیکشن کی یہ گہماگہمی اُس وقت شروع ہوئی جب برطانوی سیاسی پارٹی ’’ریفارم یوکے‘‘ نے ابھی سے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کردیا۔

ریفارم یوکے کے رہنما نائجل فراج نے اعلان کیا کہ لندن کے آئندہ میئر الیکشن کے لیے ان کی جماعت سے امیدوار لیلیٰ کیننگھم ہوں گی۔

لیلی کیننگھم کی نامزدگی کے پیشگی اعلان کا مقصد حال ہی میں ہونے والے مقامی انتخابات اور پارٹی الیکشن میں انھیں متحرک کرنا ہے۔

یاد رہے کہ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب میئر لندن صادق خان نے تاحال چوتھی مدت کے لیے الیکشن لڑنے کے حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔

نامزد مسلم خاتون امیدوار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئیں تو جرائم کے خلاف سخت کارروائی اوّلین ترجیح ہوگی۔

انھوں نے لندن میں بڑھتے ہوئے چاقو بردار جرائم، منشیات، ڈکیتی اور جنسی جرائم جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ لیلیٰ کیننگھم اس سے قبل 2022 میں ویسٹ منسٹر سے کونسلر منتخب ہوچکی ہیں۔ ایک برطانوی سیاست دان اور کراؤن پراسیکیوشن سروس کی سابق پراسیکیوٹر ہیں۔

وہ 2022 میں کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کے لیے منتخب ہوئیں۔

بعد ازاں 2025 میں انہوں نے کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر ’’ریفارم یوکے‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد وہ لندن کے کسی بھی بورو کونسل میں ریفارم یوکے کی پہلی منتخب نمائندہ بن گئیں۔

ان کے والدین 1960 کی دہائی میں مصر سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے جہاں لیلیٰ کیننگھم جن کا سابقہ نام لیلیٰ ڈوپی تھا، اگست 1977 میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں۔

ان کی پہلی شادی 10 سال چلی جن سے 4 بچے ہیں جب کہ دوسری شادی امریکی سے کی جن سے ایک بیٹا ہے جب کہ امریکی شوہر کے پہلی بیوی سے دو بچوں کی پرورش بھی لیلیٰ کر رہی ہیں۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟