شہید ضیاء الدین کے قاتلوں کی عدم گرفتاری ریاستی نظام عدل پر سوالیہ نشان ہے، انجمن امامیہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم حکومتِ وقت اور ریاستی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف موثر، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ شہداء کے لواحقین اور پوری ملت کو انصاف مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 جنوری 2005ء ملتِ تشیع کے لیے ایک ایسا سیاہ ترین دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس روز ہمارےعظیم رہنما، شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی اپنے رفقاء کے ہمراہ مرکزی امامیہ جامع مسجد میں نمازِ ظہرین کی ادائیگی کے لیے آ رہے تھے کہ گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی اپنے ساتھیوں سمیت شدید زخمی ہو گئے۔ اسی حملے میں ان کے جانثار ساتھی حسین اکبر اور عباس علی موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی اور ان کے ایک اور ساتھی تنویر حسین شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 13 جنوری 2005ء کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے سال گزر جانے کے باوجود یہ ہائی پروفائل کیس آج تک حل نہ ہو سکا۔ نہ تو اس المناک واقعے کے اصل محرکات سامنے آ سکے، نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ یہ گھناؤنا فعل کس نے اور کیوں کروایا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک عظیم رہنما اور ملت کے سچے قائد کے قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی ملتِ تشیع کے ایک مخلص، باوقار اور دور اندیش رہنما تھے، جنہوں نے ہمیشہ امن، اتحاد اور حق کی بات کی۔ ان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری ملتِ تشیع کے ساتھ کھلی زیادتی اور سنگین ناانصافی ہے۔ اس کیس کے حوالے سے اعلیٰ حکام سے بارہا مذاکرات کے بعد انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مجرموں کو قانون کی گرفت میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، لیکن تاحال کوئی موثر کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
مزید کہا گیا کہ اس عظیم سانحے کو اکیس سال گزر چکے ہیں، مگر انصاف کی عدم فراہمی کے باعث عوام میں شدید مایوسی، اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور ایسے سفاک جرائم میں ملوث عناصر کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ ہم حکومتِ وقت اور ریاستی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس المناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف موثر، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ شہداء کے لواحقین اور پوری ملت کو انصاف مل سکے۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ اگر آج بھی اس کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو یہ ریاستی نظامِ انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔ شہداء کا خون ہم سے انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید قائد سید ضیاء الدین رضوی میں کہا گیا
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔