بعد از مرگ عطیہ سے دو افراد کے قرنیے کی پیوندکاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
سندھ انسٹیٹوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (ایس آئی یو ٹی) کراچی میں بعد از مرگ عطیہ سے دو قرنیہ ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق 17 سالہ شیر علی نے وفات کے بعد اپنی آنکھوں کے قرنیے عطیہ کیے تھے۔
ترجمان کے مطابق شیر علی کو دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث ایس آئی یو ٹی لایا گیا تھا، ورثا کی رضامندی کے بعد 7 جنوری کو شیر علی کے قرنیے دو مریضوں کو عطیہ کیے گئے۔ جس سے 45 سال اور 21 سال کے مریض کی بینائی بحال ہوئی۔
ترجمان کے مطابق پروفیسر ادیب رضوی نے شیر علی کے خاندان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
پروفیسر ادیب رضوی نے کہا کہ دوسروں کے لیے سوچنا انسانیت کا بلند ترین درجہ ہے، دیگر افراد بھی اعضا کے عطیے کی تحریک کا حصہ بنیں۔
ترجمان کے مطابق مرحوم شیر علی کا ایس آئی یو ٹی سے گہرا تعلق تھا، 8 سال کی عمر میں شیر علی کو ماں نے اپنا گردہ عطیہ کیا تھا۔
ترجمان کے مطابق شیر علی کا گردہ دس سال تک بخوبی کام کرتا رہا، شیر علی دوبارہ گردے کے عارضے میں مبتلا ہو کر ڈائلیسس پر تھا، شیر علی کے والد بھی ماضی میں بھتیجے کو گردہ عطیہ کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترجمان کے مطابق شیر علی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔