Jasarat News:
2026-07-24@05:33:21 GMT

فرامینِ رسول ﷺ

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بـے لوث محبت: سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا کہاں ہیں وہ لوگ جو میری عظمت وجلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ آج، جب کہ میرے سایے کے سوا کہیں سایہ نہیں ہے، میں انھیں اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دوں گا۔
سیدنا عمرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ جن کی اللہ کے یہاں قدر ومنزلت کو دیکھ کر انبیاؑ اور شہدا بھی رشک کریں گے، حالانکہ وہ لوگ نہ نبی ہوں گے نہ شہید۔
صحابہ کرامؓ نے سوال کیا: یا رسولؐ اللہ! ہمیں بتایا جائے کہ وہ نیک بخت اور سعادت مند لوگ کون ہوں گے ؟

رسولِ کریمؐ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایت کی وجہ سے آپس میں اُلفت ومحبت رکھتے ہیں، حالاںکہ ان میں قرابت داری بھی نہیں ہے اور نہ کوئی مالی مفادات ہی ان کے پیش نظر ہیں۔ اللہ کی قسم! ان کے چہرے قیامت کے دن نورانی ہوں گے بلکہ سراسر نُور ہوں گے۔ جب لوگ قیامت کے روز حساب کتاب سے ڈر رہے ہوں گے اس وقت وہ بے خوف اور مطمئن ہوں گے اور دوسرے لوگوں کی طرح وہ کسی قسم کے رنج وغم سے دوچار نہ ہوں گے۔ پھر آپؐ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی، ترجمہ:
”“سنو! جو اللہ کے دوست ہیں نہ انھیں کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے“ (یونس: 62)۔
عداوت: سیدنا ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: آدمی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک کلام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ دو مسلمان بھائی آمنے سامنے ہوں تو ایک ادھر کو منہ پھیر لے اور دوسرا دوسری سمت رخ کر لے۔ ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
سیدہ اُمِ کلثومؓ بنت عقبہ بن ابی معیط کہتی ہیں کہ میں نے رسولؐ اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں صلح کرانے اور اصلاح کی غرض سے ایک دوسرے کو اچھی بات پہنچائے (یعنی دروغ مصلحت آمیز سے کام لے)۔

مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اُم کلثومؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبیؐ کو تین مواقع پر ایسی بات کی رخصت عطا فرماتے سنا جسے لوگ جھوٹ میں داخل سمجھتے ہیں۔ ایک میدانِ جنگ میں دشمن کے ساتھ چال، دوسرے لوگوں میں اصلاح کی غرض سے کوئی خلاف واقعہ بات کہنا، اور تیسرے وہ خلافِ واقعہ بات جو شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے (ایک دوسرے کو راضی کرنے کے لیے) کرے۔
ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسولؐ اللہ نے منبر پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے فرمایا: اے لوگو! جو زبان سے ایمان لائے ہو لیکن ایمان ابھی تمھارے دلوں میں پوری طرح اُترا نہیں ہے۔ مخلص مسلمانوں کو ستانے، انھیں عار دلانے، شرمندہ کرنے اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کے پیچھے پڑنے سے باز رہو۔ کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کمزوریوں کی ٹوہ لگاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے یہی رویہ اختیار فرماتے ہیں۔ اور جس کسی کی کمزوری پر اللہ کی نظر ہو وہ اسے ظاہر فرما دیتا ہے چاہے وہ کسی محفوظ مقام میں جا بیٹھے۔
میانہ روی: سیدنا عبداللہؓ بن سرجس نبیؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: اچھی سیرت، وقار اور اطمینان کے ساتھ کام انجام دینے کی عادت اور میانہ روی، نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
سیدنا مصعب بن سعدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ہر چیز میں میانہ روی اچھی ہے مگر آخرت کے معاملے میں میانہ روی کے بجاے مسابقت اور تیز روی سے کام لینا چاہیے۔

عبدالبدیع صقر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہیں کہ نے فرمایا میانہ روی نہیں ہے ہوں گے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف