لبنان: حزب اللہ کو غیرمسلح کرنےکا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا، لبنانی فوج
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لبنانی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجسنی کے مطابق لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقوں میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا تھا، یہ علاقہ اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو آئندہ مرحلوں میں ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دینے کا ارادہ ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس مرحلے میں وہ علاقے اور مقامات شامل نہیں تھے جو اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔
خیال رہے کہ نومبر 2024 میں جنگ بندی ہوجانے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان میں وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے اور جنگجو ہوتے ہیں۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 5 ایسے علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے جنہیں وہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے جبکہ اسرائیل حزب اللہ پر دوبارہ مسلح ہونے کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا چاہیے۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اپنے جنگجو دریائے لیطانی کے شمال کی جانب منتقل کرنے اور خالی کیے گئے علاقوں میں اپنی عسکری تنصیبات ختم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم حزب اللہ اب تک اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حزب اللہ کو غیر
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔