2025 : پاکستان و بھارت سمیت عالمی صحافیوں پر کیسا گزرا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
زندہ قومیں ہر گزرتے لمحے اپنا کڑا، سخت اور بے لاگ احتساب کرتی ہیں ۔ جو اقوام دانستہ اور غفلت سے اپنے احتساب سے گریزاں رہتی ہیں ، زوال اور بے اعتباری اُن کا مقدر بن جاتی ہیں ۔
شائد اِسی پس منظر میں شاعرِ مشرق نے کہا تھا: صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم / کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب۔ 2025 کے گزرے سال کی منجھی تلے جب ہم ڈانگ پھیرتے ہیں تو ایک بھی قابلِ فخر شئے ہاتھ نہیں لگتی ۔ یہ گزرا برس اظہارِ آزادی کے لحاظ سے مزید سمٹ اورسکڑ کر رہ گیا ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بہتری نہ آ سکی کہ سرکاری قدغنیں مزید بڑھ گئی ہیں ۔ کئی صحافی اپنی ملازمتوں سے محروم کیے گئے اور صحافتی فرائض ادا کرتے ہُوئے کئی صحافی اپنی جانوں سے گئے، پیکا ایکٹ عامل صحافیوں کے تعاقب میں رہا ۔ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی مزید نیچے گر گئی ۔
پاکستان بھر میں صحافیوں پر اغوا، قتل اور تشدد کے واقعات کی تعداد230سے بڑھ گئی ۔ پاکستان میں Media Forum Reportکو پاکستان کے شہید صحافیوں کے نام کیا گیا ۔ تین ملکی و غیر ملکی مستند صحافتی اداروں نے 2025 کے دوران بالترتیب 3 اور8اور 5پاکستانی صحافیوں کے قتل کی رپورٹ شائع کی ہے ۔ عالمی نگران اداروں نے مجموعی طور پر2025 کو پاکستانی صحافیوں کے لیے Bleak Year( بھیانک سال) قرار دیا ہے ۔ کیا ہم اِس ’’سند‘‘ پر فخر کر سکتے ہیں؟ اِس مبینہ ’’بھیانک سال‘‘ کا احساس و خیال وہی لوگ کر سکتے ہیں جنھوں نے عملی صحافت کی اوکھلی میں، کسی نہ کسی شکل میں، سر دے رکھا ہے ۔ بیرونِ دریا بیٹھنے والے اِن مسائل و مصائب کا احساس کر ہی نہیں سکتے ۔
پاکستان کے دونوں ہمسایہ ممالک ( بھارت و افغانستان) میں بھی،2025 کے دوران، صحافت اور صحافی دباؤ ، ظلم اور استحصالوں سے گزرے ۔2025 میں مودی کی متعصب اور نسل پرست حکومت نے مخالف بھارتی صحافیوں کی زندگیاں اجیرن بنائے رکھیں۔ یوں بھارت میں’’ گودی میڈیا‘‘ کی تعداد بڑھتی ہُوئی محسوس کی گئی ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی حملے ’’سندور آپریشن‘‘ میں ناکامی اور پاکستان کے ہاتھوں بھارتی شکست کے بعد وہ بھارتی صحافی جوانڈین اسٹیبلشمنٹ کا پروپیگنڈہ آگے بڑھانے سے انکاری رہے ، اُن کی جان پر بنی رہی ۔ گزشتہ برس بھارت میں چار صحافیوں ( مکیش چندریکار وغیرہ) کو تشدد میں قتل کر دیا گیا ۔
مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں پر تشدد اور دباؤ مزید بڑھ گیا ۔ سری نگر کے معروف اخبار ’’کشمیر ٹائمز‘‘ پر کئی بار بھارتی فوج نے چھاپے مارے ۔ 2024کے کشمیری انتخابات کے باوجود2025 کے دوران مقبوضہ کشمیر میں صحافتی آزادیاں بحال نہیں ہو سکیں۔ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران مقبوضہ کشمیر کے اکثریتی صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ 2025میں سری نگر کے تمام کشمیری صحافیوں کو مقامی اور بھارتی حکومت کی جانب سے ایک حکم نامہ ملا کہ ’’ وہ 6ماہ کی تنخواہوں کی رسیدیں سرکار کو فراہم کریں تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ حقیقی صحافی ہیں۔‘‘ کشمیری صحافی، عرفان معراج، نے ناجائز طور پر بھارتی جیل میں 100دن سے زائد عرصہ گزارا۔
’’الجزیرہ‘‘ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2025 میں بھی اسرائیل دُنیا کا واحد ظالم ملک رہا جس نے (غزہ میں) سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا ۔ اِس بات کی تصدیق صحافیوں کی عالمی تنظیم (RSF) نے بھی کی ہے ۔ پچھلے سال پوری دُنیا میں 128 صحافی اپنے صحافتی فرائض ادا کرتے ہُوئے قتل کر دیے گئے۔ اِن میں ایک چوتھائی سے زائد صرف اسرائیل کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے ۔ RSFکے ڈائریکٹر جنرل (Thibaut Bruttin) کا کہنا ہے کہ ’’ اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد صاف بتاتی ہے کہ یہ صہیونی ملک آزادیِ اظہار کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔‘‘ آر ایس ایف کے مطابق : اسرائیل نے صحافیوں پر ہر وہ ظلم توڑا جس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔اِسی صحافتی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور مقبوضہ کشمیر کے بعد یوکرائن، سوڈان اور میکسیکو وہ ممالک ہیں جہاں2025میں بھی صحافیوں کو نہ صرف قتل کیا گیا ، بلکہ اُن کے فرائض کے راستے میں بار بار، متعدد اور متنوع رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ۔پچھلے سال چین میں121،رُوس میں48اور میانمار میں47صحافیوں کو پسِ دیوارِ زنداں بھیجا گیا۔
افغانستان میں صحافت اور صحافیوں پر بھی 2025کا سال نہائت بُرا گزرا ۔ افغانستان کی معاشی و سماجی صورتحال تو مزید بگڑی ہی، ساتھ ہی افغانستان کی صحافت بھی مزید کہتری اور ابتری کے گڑھے میں گر گئی۔ افغان طالبان مقتدر مُلاؤں کو آزاد منش صحافی پسند ہیں نہ آزاد روش صحافت ۔ وہ ہر شئے پر مذہب کی بنیاد پر مخالفت کی مہر لگا کر محدود و مسدود کرتے چلے جا رہے ہیں۔2025 میں افغانستان کی صحافت کا تو گلا ہی گھونٹ دیا گیا۔ Nikkei Asiaکی رپورٹر (کانیکا گپتا) نے 2025میں افغانستان کی صحافت اور صحافیوں کی کتھا لکھتے ہُوئے ہمیں بتایا ہے کہ’’ افغانستان کے تنگ نظر و تنگ دل طالبان نے اپنے اشاروں پر ناچنے والے انفلوئنسرز کو تو کھلی چُھٹی دے رکھی ہے ، مگر عامل صحافیوں کو پسِ دیوارِ زنداں دھکیل دیا ہے ۔‘‘ پچھلے برس افغان خاتون صحافیوں کی تعداد میں75فیصد کمی ہو گئی ۔ افغان طالبان کے دباؤ اور مظالم کی وجہ سے اکثر افغان میڈیا آؤٹ لیٹ بند ہو گئے ہیں ۔ پچھلے سال دو افغان صحافی قتل ہُوئے ، 133افغان صحافی جیلوں میں ڈالے گئے اور 166 افغان صحافیوں کو گھروں میں جا کر دھمکیاں دی گئیں ۔ سسٹمیٹک سنسر شپ نے افغان صحافت تباہ کرڈالی ہے ۔The Afghanistan journalists Center(AFJC) نے 2025 بارے افغان صحافت بارے جو رپورٹ شائع کی ہے ، پڑھ کر ہول اُٹھتا ہے ۔
پچھلا سال، 2025،پاکستان کے دوسرے ہمسایہ اسلامی ملک میں یوں گزرا کہ موت کی سزا پانے والوں کی تعداد دُگنی ہو گئی ۔ ہمسایہ حکومت کا موقف ہے کہ ’’ صرف اُنہی افراد کو یہ سخت ترین سزائیں دی گئیں جو تمام حدود سے تجاوز کر گئے تھے ۔‘‘ مبینہ حدود سے متجاوز ہونے بارے مذکورہ ہمسایہ اسلامی ملک کا اپنا پیمانہ ہے ۔بعض کا کہنا ہے کہ سزایافتگان میں وہ لوگ شامل ہیں جو مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہُوئے ’’رنگے ہاتھوں‘‘ پکڑے گئے ۔ ناروے کی انسانی حقوق کی تنظیم (IHR) کا دعویٰ ہے کہ2025کے دوران مذکورہ ملک میں 1500 افراد پھانسی پرچڑھا دیے گئے ۔2024ء میں اِسی ملک میں مبینہ طور پر پھانسی پانے والوں کی تعداد 975تھی اور2023 میں 832تھی ۔ گویا ہر سال تعداد بڑھتی ہی گئی ہے ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اِس ہمسایہ ملک کے عوام سابق سیکولر حکومت سے نجات پاکر اور مذہبی لوگوں کی حکومت حاصل کرکے دراصل آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گئے ہیں ۔
صحافت و سیاست کا جائزہ لینے والے عالمی ادارے ’’برادری‘‘ اور ’’اخوت‘‘ سے بلند ہو کر حقائق کی بنیاد پر بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر بی بی سی کی رپورٹر (Caroline Hawley) نے خبر دی ہے کہ 2025 میں معروف و ممتاز عرب ملک میں جن347افراد کو مختلف جرائم کے ثابت ہونے پر سزائے موت دی گئی ، ان میں ایک صحافی ، ترکی الجسر، بھی شامل تھے ۔ ترکی الجسر پچھلے سات سال سے جیل میں تھے ۔ اُن پر مبینہ ’’ دہشت گردی اور بغاوت ‘‘ (High Treason)کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ 2025 میں مذکورہ عرب ملک میں جن افراد کو سزائے موت دی گئی ، ان میں2پاکستانی بھی شامل تھے ۔
مبینہ طور پر اُن پر منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کا الزام تھا ۔ آخری بات مگر یہ بھی ہے کہ عالمی صحافت کا تحقیقی جائزہ لینے والے بڑے عالمی ادارے ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آتے ۔ مثال کے طور پر یہ مغربی و امریکی صحافتی ادارے آج کل ایران میں جاری احتجاجات کا ذکر تو وَنج پر چڑھا کر پیش کرتے ہیں ، مگر ’’غزہ‘‘ میں صہیونی مظالم کا تفصیلی ذکر گول کر جاتے ہیں۔ اِسے جانبداری کہا جائے یا منافقت ؟خدا کرے یہ نیا سال ،2026، پاکستان سمیت عالمی صحافت اور پاکستانی صحافیوں پر اچھا گزرے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان کی صحافیوں پر پاکستان کے صحافیوں کی صحافیوں کو صحافیوں کے صحافت اور کے دوران کی تعداد کی صحافت ملک میں کرتے ہ
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش