عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم بند کرائے، وزیراعظم آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے جمعرات کو کراچی میں ایک تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بھارت مقبوصہ کشمیر کے مظلوم عوام پر ظلم کررہا ہے۔کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔عالمی برادری مقبوصہ کشمیر میں مودی کے مظالم بند کرائے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہمارا مقابلہ مسلم لیگ ن سے ہوگا۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے خلاف الیکشن لڑیں گے آئندہ آزاد کشمیر میں حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہوگی۔آزاد کشمیر سے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کا کوئی امکان نہیں آزاد کشمیر میں اب پی ٹی آئی ختم ہوگئی ہے۔ 6ماہ کے بعد ہم الیکشن کروائیں گے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے بعد آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ مضبوط ہے۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ کراچی میں کشمیر ہاؤس ہونا چاہیے۔ ہم سندھ حکومت سے بات کریں گے کہ وہ زمین دیتے ہیں تو ہم کشمیر ہاؤس تعمیر کریں گے۔قبل ازیں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کشمیر کے ساتھ محبت ہمیں ورثے میں ملی ہے۔آزاد کشمیر میں کچھ عرصے میں مسائل پیدا ہوئے ہیںجن کی وجہ تحریکیں چلیں،ریاست کے نظام پر عوام کا اعتبار کمزور ہوا لیکن ہم تمام مسائل کو حل کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔