کراچی:

آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے ریاست میں 6 ماہ کے بعد انتخابات کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے ہم ہائبرڈ سسٹم نہیں بلکہ سیاسی حکومت ہیں۔

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کراچی میں ایک تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوصہ کشمیر کے مظلوم عوام پر ظلم کر رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور عالمی برادری مقبوصہ کشمیر میں مودی کے مظالم بند کرائے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہمارا مقابلہ مسلم لیگ (ن) سے ہوگا، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف الیکشن لڑیں گے اور آپس میں اتحاد کا کوئی امکان نہیں ہے جبکہ آزاد کشمیر میں اب پی ٹی آئی ختم ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 6 ماہ کے بعد الیکشن کروائیں گے، پیپلز پارٹی سندھ کے بعد آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ مضبوط ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ کراچی کے اندر کشمیر ہاؤس ہونا چاہیے، ہم حکومت سندھ سے بات کریں گے کہ وہ زمین دیتے ہیں تو ہم کشمیر ہاؤس تعمیر کریں گے۔

قبل ازیں تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کشمیر کے ساتھ محبت ہمیں ورثے میں ملی ہے، آزاد کشمیر میں کچھ عرصے میں مسائل پیدا ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے تحریکیں چلیں، ریاست کے نظام پر عوام کا اعتبار کمزور ہوا لیکن ہم تمام مسائل حل کریں گے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ میں وہ کام کیے ہیں جو پچھلے 4 سال میں نہ ہو سکے، ہم نے عوام کے ساتھ رابطہ بحال کیا ہے، آج پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں عوام کی سب سے بڑی قوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم گالی نہیں دیتے، لوگوں کے راستے بند کرنے نہیں کھولنے آئے ہیں، کیا ریاست کے حالات کو افراتفری کی طرف لے کر جانا ٹھیک ہے، جب ریاست آپ کے ساتھ بیٹھ رہی ہے تو آپ بیٹھنے سے کیوں گھبرا رہے ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم ریاست کے حالات ٹھیک کر رہے ہیں تو آپ کیوں نہیں بیٹھ رہے، ہم نے کوئی وعدہ خلافی کی ہے تو بتائیں، ہم ہائبرڈ سسٹم نہیں سیاسی حکومت ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں حالات خراب نہ ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی