جاوداں فہیم ودیگر کا کراچی پریس کلب کا دورہ ٗ نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260109-08-11
کراچی(اسٹاف رپورٹر)حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کی ناظمہ جاوداں فہیم ،ناظمہ کراچی شیبہ طاہر، سیکرٹری اطلاعات حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان فریحہ اشرف، سیکرٹری اطلاعات کراچی ثمرین احمد، معاونِ خصوصی شبانہ نعیم اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سمیہ عامر نے کراچی پریس کلب کا دورہ کیا، کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی ۔انہوں نے نو منتخب عہدیداران شیما صدیقی اور فریال عارف کو خصوصی طور پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔جاوداں فہیم نے کہاکہ کراچی پریس کلب صحافیوں کی فلاح و بہبود، آزادی اظہار اور درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط، توانا اور مؤثر پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی کا سفر آئندہ بھی اسی عزم کے ساتھ جاری رہے گا۔انہوں نے صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں پریس کلب صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ، پیشہ ورانہ اقدار کے فروغ اور مثبت و تعمیری سرگرمیوں کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ جاوداں فہیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی خواتین صحافی خواتین کی حوصلہ افزائی، تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اپنا تعاون مسلسل جاری رکھے گی۔جاوداں فہیم نے مزید کہا کہ صحافی خواتین کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں آگے بڑھانے میں کراچی پریس کلب کے سابق اور سینئر عہدیداران کی خدمات قابل تحسین ہیں جبکہ صحت مند، تعمیری اور مثبت سرگرمیاں کراچی پریس کلب کی ایک نمایاں پہچان رہی ہیں۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کی ناظمہ جاوداں فہیم کراچی پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو کامیابی پر مبارکباد و گلدستہ پیش کررہی ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی پریس کلب جماعت اسلامی جاوداں فہیم
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں