اساتذہ کا بنیادی کام نسل نو کی تربیت و کردار سازی ہے‘ حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام ‘‘معمار جہاں تو ہے’’ کے عنوان سے ایک باوقار ٹیچرز کنونشن منعقد کیا گیا، جس میں اساتذہ کی تربیت، کردار سازی اور تعلیمی نظام کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ محض علم منتقل نہیں کرتے بلکہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی بنیادیں استوار کرتے ہیں۔ ایک صالح معاشرے کی تعمیر باکردار اور باصلاحیت استاد کے بغیر ممکن نہیں۔ اساتذہ کی مسلسل تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں طلبہ کی رہنمائی مؤثر انداز میں کر سکیں اور انہیں محض ڈگری یافتہ نہیں بلکہ ذمے دار شہری بنا سکیں۔اسی مقصد کے لیے جماعت اسلامی اساتذہ کے ساتھ مشاورتی سیشنز کے انعقاد میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم صرف نصاب تک محدود نہیں بلکہ کردار سازی، شعور اور ذمے داری کا نام ہے اور اس میں استاد کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ڈپٹی سیکرٹری اور معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر زبیدہ جبیں نے اپنے خطاب میں تعلیم میں مہارتوں (Skills) کے مؤثر استعمال اور موجودہ تعلیمی نظام کو درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں محض رٹے پر مبنی تعلیم طلبہ کو عملی زندگی کے لیے تیار نہیں کر سکتی۔ ہمیں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی مہارتوں اور اخلاقی اقدار کو نصاب اور تدریس کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارا موجودہ نظام تعلیم اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، وسائل کی کمی اور عملی مہارتوں کے فقدان جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے، جن کے حل کے لیے سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔جماعت اسلامی لاہور شعبہ تعلیم کی صدر نصرت طارق نے جماعت اسلامی کی تعلیمی کمیٹی کے قیام کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی کمیٹی کے قیام کا مقصد اساتذہ کرام کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کرنا، تعلیمی مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کے حل کے لیے منظم جدوجہد کرنا ہے۔ جماعت اسلامی تعلیم کو قومی ترجیح بنانے اور ہر بچے تک معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے پنجاب کے بلدیاتی نظام سے متعلق مجوزہ قانون پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں نافذ کیا جانے والا بلدیاتی نظام کا کالا قانون عوامی نمائندگی، مقامی خودمختاری اور تعلیمی و سماجی اداروں کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ یہ قانون اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے مزید مرکزیت کو فروغ دیتا ہے، جس سے تعلیمی اداروں سمیت مقامی مسائل کے حل میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ جماعت اسلامی اس قانون کے منفی اثرات کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کنونشن سے خطاب کے دوران اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اساتذہ کی تربیت، تعلیمی اصلاحات اور معاشرتی کردار سازی کے لیے حلقہ خواتین جماعت اسلامی اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔ کنونشن میں لاہور بھر کی جامعات اور کالجز کے اساتذہ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خواتین ڈاکٹر حمیرا طارق جماعت اسلامی خواتین لاہور کے تحت ٹیچرز کنونشن سے خطاب کررہی ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ہوئے کہا کہ اساتذہ کی کے لیے
پڑھیں:
حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan) نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔