برطانیہ میں شدید سردی کی لہر، برف باری کے باعث تعلیمی ادارے بند
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لندن: برطانیہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہے برف باری کے باعث سیکڑوں تعلیمی ادارے بند ہوگئے۔
تعلیمی ادارے بندہونے کی وجہ سے ہزاروں بچے گھروں میں قید ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ والدین چھٹیوں کے بعد بھی اپنے کام کاج کیلئے معمولات زندگی نارمل ہونیکا انتظار کر رہے ہیں۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق مسلسل برفباری اور درجہ حرارت گرنے کی وجہ سے والدین اور دیکھ بھال کرنیوالے اداروں سمیت اسکول انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تعلیمی اداروں میں صورتحال سے آگاہی کیلئے والدین اپنے اپنے طریقے سے اپ ڈیٹس حاصل کر سکیں گے۔ ای میل، ٹیکسٹ، مخصوص ایپ یا کسی اور ذرائع سمیت اسکولز اپنی ویب سائٹس پر بھی حالات سے والدین کو اپ ڈیٹ کریں گے۔
مقامی کونسلوں کی طرف سے ان کے علاقوں میں اسکولوں کی بندش کی فہرستیں بھی اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں، جیسے گزشتہ روز نارتھ یارکشائر کونسل کی طرف سے پچاس سکولو ں کی بندش سے آگاہی دی گئی۔
ریڈیو اسٹیشن سمیت ذرائع ابلاغ کو بھی استعمال کیا جائیگا، خراب موسمی حالات کے باعث ہیڈ ٹیچر کو اسکول کی بندش کا اختیار سونپا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔