سرنڈرکرنیوالے ڈاکوئوںسے برآمد اسلحہ کی قیمت بھی ادا کی جائیگی، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر) انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں کے خلاف بڑے اور فیصلہ کن آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ پولیس اب جدید انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کا مکمل قلع قمع کرے گی۔آئی جی سندھ نے واضح اور دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کچے کے علاقے میں ریاست کی رِٹ قائم کرنا اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے ڈاکوؤں کو خبردار کیا کہ اگر وہ سرنڈر کر لیتے ہیں تو ان کی جان بخشی ممکن ہے اور وہ قانون کے مطابق عدالتوں سے ریلیف حاصل کر سکتے ہیں، تاہم سرنڈر نہ کرنے والوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔جاوید عالم اوڈھو نے ایک غیر معمولی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈاکو خود کو قانون کے حوالے کریں گے، ان سے برآمد ہونے والا اسلحہ سرکاری تحویل میں لے کر انہیں اس کی مناسب قیمت ادا کی جائے گی، تاکہ وہ دوبارہ جرائم کی دنیا کی طرف نہ لوٹیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ مرحلے میں کچے کے علاقے میں ہونے والے آپریشن میں پنجاب پولیس کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔