جماعت اسلامی کے وفد کا کراچی پریس کلب کا دورہ‘ نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمداور ڈپٹی سیکرٹری اسد فاروق نے کراچی پریس کلب کا دورہ کیا اور کلب کے نو منتخب سیکرٹری محمد اسلم خان ودیگر عہدیداران سے ملاقات کی۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے نو منتخب عہدیداران کی کامیابی پر مبارکباد دی اور گلدستہ پیش کیا۔ سیکرٹری محمد اسلم خان نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا،صحافی برادری کے مسائل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری فاروق سمیع،نائب صدر ارشادکھوکھر،خزانچی عمران ایوب اور گورننگ باڈی کے ممبران عبدالجبار ناصر،اختر حسین سومرو، شیما صدیقی، فریال عارف، جاوید صبا، سید فرید عالم اور جاوید مہر و دیگر بھی موجود تھے۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ صحافیوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے شانہ بشانہ رہی ہے اور ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں کراچی پریس کلب اور پوری صحافی برادری کے ساتھ ہیں۔ یہ کلب ہمارے گھر کی طرح ہے، ہم پوری باڈی کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، امید ہے کہ نئی باڈی پریس کلب کے سیاسی و صحافتی کردار کو برقرار رکھے گی۔سیکرٹری محمد اسلم خان نے کہا کہ کراچی پریس کلب جمہوری روایات کا پاسدار ہے اور جمہوریت ہی ہماری شناخت اور پہچان ہے۔
اسٹاف رپورٹر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے کراچی پریس کلب
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔