اسلام آباد (خبرنگار) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے نوجوانوں میں علم پر مبنی معیشت کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کا مقصد طلبہ کو جدید تعلیمی وسائل فراہم کرنا ہے، تعلیم اور ٹیکنالوجی ملکی ترقی کی بنیاد ہیں، جدید ٹیکنالوجی کو اپنائے بغیر ترقی ممکن نہیں، نوجوانوں کو بااختیار بنانا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔جمعرات کو کامسیٹس یونیورسٹی میں منعقدہ وزیرِ اعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے نوجوانوں سے کہا کہ اپ کو جو لیپ ٹاپ دیئے جا رہے ہیں ان کا کوئی اور مقصد نہیں، محض انسانیت کی خدمت ہے، نہ کتابیں پڑھانے کا مقصد الگ ہے نہ لیپ ٹاپ کا، اصل مقصد یہ ہے کہ آپ ایک ایسے مستقبل میں قدم رکھ سکیں جسے آپ نے ابھی دیکھا بھی نہیں اور جس کا آپ تصور بھی مکمل طور پر نہیں کر سکتے، جب آپ گریجویشن کے بعد باہر نکلیں گے، کام کریں گے اور آپ کو پہلے سے معلوم نہیں ہوگا کہ کیا سیکھنا ہے اور کس سمت جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا قومی ترجیح ہے۔ نوجوانوں کو تحقیق کی طرف لانا ناگزیر ہے، لیپ ٹاپ سکیم کا مقصد تحقیق، جدت اور سیکھنے کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ لیپ ٹاپ سکیم کا مقصد نوجوانوں کو مہارتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ حکومت نوجوانوں کو علم پر مبنی معیشت کے لیے تیار کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال پہلے حالات کچھ اور تھے، ایک وقت تھا جب موبائل فون نہیں ہوتے تھے،یقیناً کچھ بدلا ہے، یہاں اصل بات وقت کی تیاری ہے، بدلتے ہوئے وقت کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔ یونیورسٹی صرف بس اور عمارتوں کا نام نہیں بلکہ یہ اس قابل بناتی ہے کہ آپ ایسے مستقبل میں قدم رکھ سکیں جسے آپ نے ابھی دیکھا ہی نہیں، یہ تیاری غیر یقینی حالات میں فیصلے کرنے کی ہے، کامیابی اور ناکامی دونوں کو قبول کریں اور ان دونوں کے ساتھ جینے کا حوصلہ رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • زندگی کا مقصد
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم