روشنیوں کے شہر کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات اور شہریوں پر حملوں کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس نے شہر بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے آوارہ کتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں، جن میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، سول اور انڈس اسپتال شامل ہیں، میں کتے کے کاٹنے کے واقعات کی شکایات لے کر آنے والے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر 100 سے زائد نئے کیسز مختلف ہسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں۔ متاثرین میں بڑی تعداد چھوٹے بچوں، بزرگوں اور موٹر سائیکل سواروں کی ہے، جنہیں گلی محلوں اور شاہراہوں پر نشانہ بنایا گیا۔

جہاں ایک طرف واقعات بڑھ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ہسپتالوں پر دباؤ بڑھنے سے اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) کی قلت کا خدشہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔ شہریوں کا شکوہ ہے کہ انہیں ویکسین کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں لگنا پڑ رہا ہے یا مہنگے داموں پر پرائیویٹ میڈیکل اسٹورز سے انجیکشن خریدنے پڑ رہے ہیں۔

انڈس اسپتال میں کتوں کے کاٹے کے حوالے سے خدمات دینے والے ڈاکٹر آفتاب گوہر نے وی نیوز کو بتایا کہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کتے کے کاٹنے سے آنے والے زخم ایک پہلو ہیں، اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مناسب علاج کا نہ ہونا۔ اگر کوئی علاج نہیں کرواتا تو متاثرہ شخص چند ہفتوں یا ایک مہینے میں ریبیز کا شکار ہو سکتا ہے، اور اگر ریبیز ہو جائے تو یہ ایک لاعلاج مرض ہے، جس کا دنیا میں کوئی علاج موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ضلع راولپنڈی میں 5 ہزار سے زائد آوارہ کتوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

ڈاکٹر آفتاب کے مطابق اگر کسی کو کتا کاٹے تو سب سے پہلے فوری علاج کی ضرورت ہے۔ ایسے مریضوں کو سب سے پہلے زخموں کی صفائی پانی اور صابن سے 10 سے 15 منٹ تک کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی کسی ایسے حفاظتی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے جہاں مؤثر علاج دستیاب ہو۔ ڈاکٹر زخموں کو دیکھ کر مرض کی درجہ بندی کرتا ہے۔ اگر زخم معمولی ہوں تو بازو میں 4 حفاظتی انجیکشن لگتے ہیں، لیکن اگر زخم گہرا ہو تو زخم کے اندر بھی انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ بروقت علاج کی صورت میں اس مرض کو 100 فیصد روکا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق ہر وہ فرد جسے کتے نے کاٹا ہو، اس کے لیے علاج کروانا ضروری ہے۔ اگر گلی کے عام کتے کو معمولی سمجھ کر علاج نہ کرایا جائے اور بعد میں ریبیز کی تشخیص ہو جائے تو پھر علاج ممکن نہیں رہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس 9 ایسے مریض لائے گئے جنہیں یا تو علاج ملا ہی نہیں یا مکمل علاج نہ ملنے کے باعث وہ ریبیز کا شکار ہو گئے۔

ڈاکٹر آفتاب کے مطابق کتے کے کاٹنے کے واقعات میں ہر سال مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ کتوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری یہ کہ اگر کوئی کتا ریبیز سے متاثرہ ہو تو وہ بدحواسی میں ہر چیز کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے، جیسے کچھ دن قبل ایک ہی کتے کے کاٹنے سے متاثرہ 28 افراد کو اسپتال لایا گیا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر کسی کتیا نے بچے دیے ہوں اور کوئی شخص ان کے قریب جائے تو وہ کاٹ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آوارہ کتوں سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر آفتاب کا کہنا ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے نہ صرف علاج کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ کتوں کی نسل میں کمی کے لیے بھی ممکنہ اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ کتوں کو مارنا بہتر حل نہیں سمجھا جاتا، تاہم اگر کوئی کتا ریبیز سے متاثرہ ہو تو اسے مارنا ہی واحد حل ہوتا ہے، اور یہ کام بھی بہتر اور انسانی طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک گلی کے آوارہ کتوں کا تعلق ہے تو ہر وہ جگہ جہاں کچرا موجود ہو گا، وہاں کتوں کی تعداد بھی زیادہ ہو گی، اس لیے صفائی اور کچرے کی تلفی کے بہتر انتظامات ناگزیر ہیں۔ دنیا بھر میں کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر حل کی جانب بڑھنا انتہائی ضروری ہے۔

ترجمان حکومت سندھ مصطفیٰ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ہنگامی بنیادوں پر یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ویکسین دستیاب ہو، جو اس وقت موجود بھی ہے۔ جیسے جیسے کیسز سامنے آ رہے ہیں، کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتوں کو مارنے کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں، آپ کتوں کو بلاوجہ مار نہیں سکتے، جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے ایسا طریقہ کار اختیار کرنا ہو گا جس سے شہریوں کو تحفظ بھی ملے اور جانوروں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔ اس حوالے سے کتوں کے لیے شیلٹرز بنانے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے لیے عوام کو مہم کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کتے کے کاٹنے ڈاکٹر آفتاب آوارہ کتوں اضافہ ہو ضروری ہے سکتا ہے کتوں کا کا کہنا رہے ہیں کتوں کی کتوں کو کے لیے کیا جا رہا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف