Juraat:
2026-07-24@06:36:14 GMT

دادو کی عدالت کا تاریخی فیصلہ، جعلی پولیس مقابلہ بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

دادو کی عدالت کا تاریخی فیصلہ، جعلی پولیس مقابلہ بے نقاب

طبی شواہد، وقت کے تضادات ، سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس کا مؤقف مکمل مسترد کر دیا گیا
نو پولیس اہلکار مجرم قرار،راولپنڈی کے شہری کے قتل پر سات سال قید، جرمانے ، ہرجانے کی سزا

(رپورٹ:امداد سومرو) دادو کی ایک عدالت نے پولیس مقابلوں کے نام پر ہونے والی جعلی کارروائیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں انسپکٹر سمیت نو پولیس اہلکاروں کو جھوٹا پولیس مقابلہ دکھا کر راولپنڈی کے شہری محمد جبران کو قتل کرنے اور شواہد مٹانے کا مجرم قرار دے دیا ہے ۔ایڈیشنل سیشن جج دادو نے 8جنوری 2026کو سنائے گئے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ Crime No.

97/2022 میں دکھایا گیا پولیس مقابلہ سرے سے ہوا ہی نہیں، جبکہ مقتول محمد جبران پولیس کے دعوے کے مطابق مقابلے کے وقت سے کئی گھنٹے قبل ہی جاں بحق ہو چکا تھا۔ عدالت نے پولیس کے پورے مؤقف کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی کہانی قرار دیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول جبران کا زمین کے معاملے پر راولپنڈی کے ایک بلڈر کے ساتھ تنازع تھا، جس نے مقتول جبران کو قتل کرانے کے لئے پولیس افسران کی بھاری رقم کے عوض خدمات لیں۔پولیس کے مطابق 31؍جولائی 2022کی رات تقریباً 2:30 بجے شیخ ہاران قبرستان کے قریب پولیس پارٹی اور مسلح افراد کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں ایک ملزم مارا گیا اور اس کے قبضے سے 30 بور پستول برآمد ہوئی۔ اس حوالے سے ایف آئی آر انسپکٹر نور مصطفی پٹھان کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔عدالت نے طبی شواہد، وقت کے تضادات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس کے مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کو سینے پر دو گولیاں لگی تھیں اور اس کی موت کا وقت رات 11:40بجے سے 1:40بجے کے درمیان بتایا گیا، جو مبینہ پولیس مقابلے سے کئی گھنٹے پہلے کا ہے ۔عدالت نے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ جو شخص پہلے ہی مر چکا ہو، وہ نہ پولیس پر فائرنگ کر سکتا ہے ، نہ بات چیت اور نہ ہی پانچ منٹ کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔عدالت نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ کوئی پولیس مقابلہ نہیں ہوا، مقتول پر اسلحہ رکھا گیا، جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئیں اور اصل حقائق چھپانے کے لیے شواہد مٹائے گئے ۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اصل فائر کس نے کیا، اس لیے قتل کی دفعہ میں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا، لیکن تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔ سزائیں اور جرمانے انسپکٹر نور مصطفی پٹھان، اے ایس آئی غلام قادر گوپانگ، اے ایس آئی نذیر احمد، ہیڈ کانسٹیبل دوست محمد، ہیڈ کانسٹیبل عبدالستار، کانسٹیبل غلام مصطفی، ڈرائیور کانسٹیبل غلام مصطفی، کانسٹیبل اللہ بچایو اور کانسٹیبل عمران علی کو سات سال قید ِ بامشقت اور 10؍ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔مزید برآں، عدالت نے دفعہ 544-Aضابطہ فوجداری کے تحت متاثرہ خاندان کو ذہنی اذیت پہنچانے پر انسپکٹر نور مصطفی کو 10 لاکھ روپے جبکہ دیگر ہر ملزم کو ایک، ایک لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ فیصلے کے فوراً بعد ایک تشویشناک پیش رفت سامنے آئی جب سزا یافتہ پولیس اہلکار کمرئہ عدالت سے فرار ہو گئے ، جس پر عدالت نے فوری طور پر ان کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے فیصلے میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اصل قاتل تاحال سامنے نہیں آ سکے ، جو پولیس تفتیش اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے ۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ فیصلہ سندھ میں جعلی پولیس مقابلہ کلچر کے خلاف ایک مضبوط عدالتی پیغام ہے ۔واضح رہے کہ کیس کی دوبارہ تفتیش سندھ پولیس کے ڈی ایس پی سراج لاشاری نے کی، جبکہ مقتول کے خاندان کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان ایڈووکیٹ پیر غلام محمد عرف پیر ہنی نے کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پولیس مقابلہ فیصلے میں عدالت نے پولیس کے کے مطابق

پڑھیں:

سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان

سعودی عرب میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ عمرہ زائرین کی سہولت کے لیے تیار کی گئی مقامی موبائل ایپ ’ہُدہُد‘ (Hudhud) مکہ مکرمہ کے مذہبی، تاریخی اور سیاحتی مقامات تک آسان رسائی کا مؤثر ذریعہ بن گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق سال بھر دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عمرہ زائرین مکہ کی سڑکوں، گلیوں اور ٹریفک سے ناواقف ہونے کے باعث دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ’ہُدہُد‘ ایپ متعدد زبانوں میں دستیاب ہے اور جدید ڈیجیٹل نقشوں اور نیویگیشن سسٹم کی مدد سے زائرین کو مطلوبہ مقام تک مختصر اور آسان راستہ فراہم کرتی ہے۔

حج و عمرہ امور کے ماہر سعد الجودی نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار کی گئی نقشہ سازی اور نیویگیشن ایپس اب زائرین کو فراہم کی جانے والی خدمات کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق ’ہُدہُد‘ صرف راستہ دکھانے تک محدود نہیں بلکہ زائرین کو ایسے مذہبی، تاریخی اور ثقافتی مقامات سے بھی متعارف کراتی ہے جن کے بارے میں بہت سے لوگ پہلے سے آگاہ نہیں ہوتے۔

Digital innovation is rapidly reshaping Saudi Arabia’s Hajj and Umrah services sector, and Saudi application Hudhud is another front-runner https://t.co/VPqPcDtolP pic.twitter.com/AAvP5Im9wJ

— Arab News (@arabnews) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی اب حجاج اور عمرہ زائرین کی روزمرہ سرگرمیوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے، کیونکہ زیادہ تر مسافر اب اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے سفر کی منصوبہ بندی اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بقول اس طرح کی ایپس وژن 2030 کے اس مقصد کو بھی تقویت دیتی ہیں جس کا ہدف زائرین کے تجربے کو بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا ہے۔

پہلی بار مکہ آنے والے زائر سمیر المغربی نے بتایا کہ ’ہُدہُد‘ ایپ کی مدد سے وہ بغیر کسی مشکل کے متعدد تاریخی اور مذہبی مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں مختلف مقامات تلاش کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر بار بار سرچ کرنا پڑتی یا لوگوں سے راستہ پوچھنا پڑتا تھا، لیکن اس ایپ نے نہ صرف ان کا وقت بچایا بلکہ انہیں زیادہ اطمینان کے ساتھ عبادت اور تاریخی مقامات کی زیارت کا موقع بھی فراہم کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل سہولیات، اسمارٹ ایپس اور جدید نیویگیشن سسٹمز کے ذریعے حجاج اور عمرہ زائرین کو بہتر، محفوظ اور سہل سفری تجربہ فراہم کرنا مملکت کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو مکہ مکرمہ میں عبادات اور مقدس مقامات کی زیارت کے دوران زیادہ سے زیادہ سہولت میسر آ سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی عرب مکہ ہدہد ایپ

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں