Juraat:
2026-06-02@22:30:12 GMT

دادو کی عدالت کا تاریخی فیصلہ، جعلی پولیس مقابلہ بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

دادو کی عدالت کا تاریخی فیصلہ، جعلی پولیس مقابلہ بے نقاب

طبی شواہد، وقت کے تضادات ، سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس کا مؤقف مکمل مسترد کر دیا گیا
نو پولیس اہلکار مجرم قرار،راولپنڈی کے شہری کے قتل پر سات سال قید، جرمانے ، ہرجانے کی سزا

(رپورٹ:امداد سومرو) دادو کی ایک عدالت نے پولیس مقابلوں کے نام پر ہونے والی جعلی کارروائیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں انسپکٹر سمیت نو پولیس اہلکاروں کو جھوٹا پولیس مقابلہ دکھا کر راولپنڈی کے شہری محمد جبران کو قتل کرنے اور شواہد مٹانے کا مجرم قرار دے دیا ہے ۔ایڈیشنل سیشن جج دادو نے 8جنوری 2026کو سنائے گئے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ Crime No.

97/2022 میں دکھایا گیا پولیس مقابلہ سرے سے ہوا ہی نہیں، جبکہ مقتول محمد جبران پولیس کے دعوے کے مطابق مقابلے کے وقت سے کئی گھنٹے قبل ہی جاں بحق ہو چکا تھا۔ عدالت نے پولیس کے پورے مؤقف کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی کہانی قرار دیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول جبران کا زمین کے معاملے پر راولپنڈی کے ایک بلڈر کے ساتھ تنازع تھا، جس نے مقتول جبران کو قتل کرانے کے لئے پولیس افسران کی بھاری رقم کے عوض خدمات لیں۔پولیس کے مطابق 31؍جولائی 2022کی رات تقریباً 2:30 بجے شیخ ہاران قبرستان کے قریب پولیس پارٹی اور مسلح افراد کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں ایک ملزم مارا گیا اور اس کے قبضے سے 30 بور پستول برآمد ہوئی۔ اس حوالے سے ایف آئی آر انسپکٹر نور مصطفی پٹھان کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔عدالت نے طبی شواہد، وقت کے تضادات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس کے مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کو سینے پر دو گولیاں لگی تھیں اور اس کی موت کا وقت رات 11:40بجے سے 1:40بجے کے درمیان بتایا گیا، جو مبینہ پولیس مقابلے سے کئی گھنٹے پہلے کا ہے ۔عدالت نے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ جو شخص پہلے ہی مر چکا ہو، وہ نہ پولیس پر فائرنگ کر سکتا ہے ، نہ بات چیت اور نہ ہی پانچ منٹ کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔عدالت نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ کوئی پولیس مقابلہ نہیں ہوا، مقتول پر اسلحہ رکھا گیا، جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئیں اور اصل حقائق چھپانے کے لیے شواہد مٹائے گئے ۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اصل فائر کس نے کیا، اس لیے قتل کی دفعہ میں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا، لیکن تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔ سزائیں اور جرمانے انسپکٹر نور مصطفی پٹھان، اے ایس آئی غلام قادر گوپانگ، اے ایس آئی نذیر احمد، ہیڈ کانسٹیبل دوست محمد، ہیڈ کانسٹیبل عبدالستار، کانسٹیبل غلام مصطفی، ڈرائیور کانسٹیبل غلام مصطفی، کانسٹیبل اللہ بچایو اور کانسٹیبل عمران علی کو سات سال قید ِ بامشقت اور 10؍ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔مزید برآں، عدالت نے دفعہ 544-Aضابطہ فوجداری کے تحت متاثرہ خاندان کو ذہنی اذیت پہنچانے پر انسپکٹر نور مصطفی کو 10 لاکھ روپے جبکہ دیگر ہر ملزم کو ایک، ایک لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ فیصلے کے فوراً بعد ایک تشویشناک پیش رفت سامنے آئی جب سزا یافتہ پولیس اہلکار کمرئہ عدالت سے فرار ہو گئے ، جس پر عدالت نے فوری طور پر ان کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے فیصلے میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اصل قاتل تاحال سامنے نہیں آ سکے ، جو پولیس تفتیش اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے ۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ فیصلہ سندھ میں جعلی پولیس مقابلہ کلچر کے خلاف ایک مضبوط عدالتی پیغام ہے ۔واضح رہے کہ کیس کی دوبارہ تفتیش سندھ پولیس کے ڈی ایس پی سراج لاشاری نے کی، جبکہ مقتول کے خاندان کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان ایڈووکیٹ پیر غلام محمد عرف پیر ہنی نے کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پولیس مقابلہ فیصلے میں عدالت نے پولیس کے کے مطابق

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار