بلوچستان بھر کی ضلعی عدلیہ کو ماڈل کورٹس قرار دے دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی ہدایت پر صوبے بھر کی ضلعی عدلیہ کو ماڈل کورٹس قرار دے دیا گیا۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے صوبے بھر کی عدالتوں کو اہم ہدایات جاری کر دیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹس سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز تک تمام عدالتیں ماڈل کورٹس کے طور پر کام کریں گی۔ ماڈل کورٹس کے قیام کا مقصد تیز انصاف اور زیر التواء مقدمات میں کمی ہے۔
فیصلہ این جے پی ایم سی کے 56ویں اجلاس اور ججز میٹنگ کی روشنی میں کیا گیا۔
تمام عدالتوں کو ماہانہ یونٹ رپورٹس ممبر انسپکشن ٹیم کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماڈل کورٹس کا فیصلہ فوری نافذ العمل ہوگا اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماڈل کورٹس
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔