حارث وحید نے مکہ مکرمہ میں پیش آنے والا معجزاتی واقعہ شیئر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستان کے معروف اداکار حارث وحید نے مکہ مکرمہ میں اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والا معجزاتی واقعہ شیئر کرکے ہر ایک کی آنکھیں نم کر دیں۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اداکار نے اپنے والد کے ہمراہ ادا کیے عمرے کی ویڈیو کے ساتھ ایک جذباتی اور ایمان افروز واقعہ بھی شیئر کیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ مکہ مکرمہ میں ادائیگی عمرہ کے دوران ان کے والد کی صحت میں معجزانہ بہتری آئی، جہاں وہ وہیل چیئر پر گئے اور اپنے قدموں پر چلتے ہوئے وطن واپس لوٹے۔ یہ مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اداکار کی ویڈیو میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Haris Waheed (@haariswaheed)
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور قلیل وقت میں ہزاروں صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔
حارث وحید نے حال ہی میں اپنے والد کو عمرہ کروانے کا خواب پورا کیا، اگرچہ ادائیگی عمرہ سے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر کوئی اپ ڈیٹس نہیں دیں تاہم واپسی پر اداکار نے ایک دل سوز پیغام شیئر کیا جس نے سب کو جذباتی کر دیا۔
اداکار کے مطابق عمرہ کا سفر شدید مشکلات کے ساتھ شروع ہوا۔ ان کے والد اپنی جسمانی کمزوری کے باعث چلنے سے قاصر تھے اور حرمین شریفین کی زیارت وہیل چیئر پر ہی ممکن ہو سکی۔
حارث وحید نے اس تجربے کو ایک عظیم روحانی معجزہ قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔