کوئٹہ:

بلوچستان کے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین شہر سے ایک نامعلوم نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق مقتول کو سر میں نزدیکی فاصلے سے ایک گولی مار کر بے دردی سے قتل کیا گیا، جبکہ سر کو پلاسٹک بیگ میں لپیٹ کر پھینک دیا گیا تھا، جو واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش کو پرنس فہد بن سلطان اسپتال دالبندین منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم کے لیے طبی عملہ مصروف ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کی عمر 20 سے 25 سال کے درمیان ہے تاہم ابھی تک اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔ لاش کی حالت سے لگتا ہے کہ قتل چند گھنٹے قبل کیا گیا۔

مقامی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے ہیں اور ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ذاتی دشمنی، لوٹ مار یا کسی اور مجرمانہ عنصر سے منسلک ہو سکتا ہے، تاہم تفتیش جاری ہے۔

ضلع چاغی میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، اور حالیہ مہینوں میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مقامی صحافیوں اور عوام کا مطالبہ ہے کہ پولیس فوری طور پر ملزموں کو گرفتار کرے تاکہ مزید ایسے واقعات روکے جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق