سستا تیل مہنگا پڑ گیا: مودی کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام، بھارتی معیشت دباؤ میں
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس سے سستا تیل حاصل کرنے کی بھارتی پالیسی اب بھارت کے لیے ایک بڑے معاشی اور سفارتی بحران کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔
عالمی اور بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی حکومت کی روس کے ساتھ بڑھتی قربت اب ایک سفارتی ناکامی میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا جب کہ روسی تیل کی خریداری پر اضافی 25 فیصد جرمانہ بھی لگایا گیا، جس کے باعث بعض بھارتی مصنوعات پر مجموعی ڈیوٹیاں 50 فیصد تک جا پہنچیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2025 میں بھی امریکی صدر نے بھارتی چاول پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جس سے بھارتی برآمدات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں تعطل، عالمی پابندیوں کا خدشہ اور بڑھتے ہوئے ٹیرف نے مودی سرکار کے معاشی ماڈل کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں۔ سستے روسی تیل کے لالچ نے وقتی فائدہ تو دیا، مگر اس کے نتیجے میں بھارت خود کو عالمی تجارتی دباؤ اور ممکنہ پابندیوں کے دہانے پر لے آیا ہے، جو طویل المدتی طور پر معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین اس صورتحال کو مودی حکومت کی نظریاتی ترجیحات سے بھی جوڑ رہے ہیں، جہاں ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے زیراثر مودی کی توجہ بھارت کو ایک مضبوط معاشی طاقت بنانے کے بجائے ہندوتوا ریاست کے تصور پر مرکوز رہی ہے۔ اس پالیسی کے اثرات اب معاشی سطح پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں شائننگ انڈیا کے نعرے کے پیچھے بڑھتی ہوئی سماجی اور معاشی خلیج بے رحمی سے عیاں ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک طرف امبانی اور اڈانی جیسے بڑے سرمایہ داروں کے اثاثوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ دوسری جانب عام بھارتی شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی قلت کا شکار ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہی ہے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔